حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 704 of 923

حیاتِ خالد — Page 704

حیات خالد 693 گلدستۂ سیرت دے دیتے اور اگر نہ ہوتی۔اور ایسے مواقع بہت کثرت سے ہوا کرتے تھے۔تو فرمایا کرتے تھے کہ اچھا کل رقم لے لینا۔ہمارے ابا جان واقف زندگی تھے دنیاوی لحاظ سے مال دار نہیں تھے لیکن یقین اور تو کل کی دولت سے بھر پور تھے۔اگلے روز ہم جاتے تو اسی طرح جیب میں ہاتھ ڈالتے اور ہماری مطلوبہ رقم بڑی خوشی سے ہمیں دے دیتے۔ہم بہن بھائی آکر آپس میں یہ بات کرتے کہ یہ کیا بات ہے کہ ابا جان کے پاس آج رقم نہیں ہے اور کل کہاں سے آ جائے گی۔ہم سوچتے اور آپس میں اظہار بھی کرتے کہ شاید با جان کے پاس پیسے بنانے کی کوئی مشین ہے جو آپ رات کو چلاتے ہیں اور صبح ہوتی ہے تو رقم تیار مل جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ کوئی ایسی مادی مشین تو ان کے پاس نہ تھی البتہ رات کی تاریکی میں چلنے والی دعا، یقین اور توکل کی مشین ضرور تھی اور یہی آپ کی سب سے قیمتی متاع تھی۔محترم مولانا عطاء المجیب صاحب را شد مزید لکھتے ہیں:۔حضرت ابا جان مرحوم و مغفور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صاحب کشوف والہام بزرگ تھے۔رویائے صادقہ بہت کثرت سے دیکھتے لیکن طبیعت میں ایسی انکساری اور خاکساری تھی کہ ان عظیم خدائی انعامات کا بہت ہی کم ذکر فرماتے۔اکثر اس ذاتی تعلق باری تعالی کا اخفاء ہی پسند فرماتے اور یہی اللہ تعالیٰ کے سچے مومن بندوں کا عام طریق ہے۔بعض موقعوں پر ان انعامات کا زبانی ذکر آپ کی زبان سے میں نے سنا ہے لیکن ہر بار یہ ذکر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی حمد سے لبریز جذبات کے ساتھ ہوتا تھا نہ کہ اپنی ذات کو نمایاں کرنے یا تفاخر کی غرض سے۔۱۹۵۳ء کے خطرناک حالات میں ہر احمدی مجسم دعا بنا ہوا تھا۔حضرت ابا جان نے ان حالات کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار یہ ذکر فرمایا کہ ان دنوں میں دشمنوں کے خطرناک منصوبوں کی خبریں ہر روز موصول ہوتی تھیں۔ان اطلاعات پر ایک مرکزی کمیٹی میں غور و فکر کیا جاتا، مشورے ہوتے اور ضروری تدابیر اختیار کی جاتیں۔آپ فرماتے تھے کہ ان پریشان کر دینے والی خوفناک اطلاعات سے طبیعت بہت فکر مند رہتی اور دعاؤں کی طرف خصوصی توجہ ہوتی۔ایک روز بہت ہی فکر مندی کا عالم تھا۔خوب دعا کا موقع ملا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ تسلی دی کہ ان ساری مشکلات کے بادل چھٹ جائیں گے اور اللہ تعالی ان مشکل حالات میں جماعت کی حفاظت فرمائے گا۔مجھے یاد ہے کہ حضرت ابا جان نے اپنے اس الہام کا ذکر فرمایا کہ انا لنفسُ كُل كُرْبَةٍ مِنْ كُرَبَاتِ الدُّنْيَا کہ دنیا کی سب مشکلات اور آزمائشوں کو ہم پھونکوں سے اڑا کر رکھ دیں گے۔تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے