حیاتِ خالد — Page 69
حیات خالد 73 اساتذہ کرام ایمانی غیرت حضرت مولوی صاحب کو خواہ کسی سے کتنی محبت ہو لیکن اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ اس شخص کا طریق عمل سلسلہ کیلئے مضر ہے یا کوئی مسئلہ خلاف حقیقت ہے تو وہ ایسے موقعہ پر ہمیشہ قابل تعریف ایمانی غیرت کا اظہار کرتے تھے۔-۵ تواضع و انکسار : حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب مرحوم اپنے بے نظیر علمی تبحر کے باوجود بے انتہا خاکسار اور متواضع واقع ہوئے تھے۔مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے بھی اس طور سے اپنے علم کا اظہار کیا ہو کہ جس سے دوسروں پر فوقیت جتانا مد نظر ہو۔- ۶۔جود وسخا حضرت مولوی صاحب عیال دار تھے ذرائع آمدنی نہایت محدود تھے مگز طبیعت میں ایسی سفاوت تھی کہ ان کے حالات کے لحاظ سے کئی دفعہ ان سے درخواست کی جاتی تھی کہ آپ اس طرح خرچ نہ کیا کریں۔کتا میں طبع کرواتے تھے تو اکثر مفت ہی تقسیم کر دیتے تھے۔بے نفسی اور ایثار میں بھی حضرت مولوی صاحب قابل تقلید نمونہ تھے۔امدا د محتا جین: اگر آپ خود کسی محتاج کی مدد نہ کر سکیں تو دوسرے اہل ثروت کے پاس جا کر محتاج کی سفارش کرتے تھے۔انہیں اس سے سخت تکلیف ہوتی تھی کہ کسی شخص کو حاجت ہو اور وہ اسے پورا نہ کر سکیں۔دعاؤں اور عبادت گزاری میں بھی انہیں خاص خصوصیت حاصل تھی۔چاہتے تھے کہ ان کے شاگرد بھی اسی رنگ میں رنگین ہوں۔غرض حضرت مولوی صاحب بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ان کے شاگرد زندگی بھر ان کے احسانات کو بھول نہیں سکتے"۔(خاکسارا بوالعطاء جالندھری۔ڈیرہ غازی خان : الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۴۰ء) حضرت مولانا کے مقام و مرتبہ کے دو بلند پایہ عالمان دین بزرگوں کی قائم مقامی تعین کیلئے اب جن بلند پایہ عالمان دین اور خادمان احمدیت کا ذکر کیا جاتا ہے وہ میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب۔سیدنا حضرت امصلح الموعودؓ نے ان دونوں بزرگوں کے بارے میں فرمایا۔وو یہ دو اپنے مباحثوں کی وجہ سے جماعت میں اتنے مقبول ہوئے کہ مجھے یاد ہے اس وقت ہمیشہ جماعتیں یہ لکھا کرتی تھیں کہ اگر حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد اسحاق صاحب نہ آئے تو ہمارا کام نہیں چلے گا۔حضرت خلیفہ اسیح الاول مولا نا نور الدین صاحب کی وفات