حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 68 of 923

حیاتِ خالد — Page 68

حیات خالد 72 اساتذہ کرام " مجھے الفضل کے ذریعہ یہ خبر ملی کہ حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب کا ذکر خیر ہمارے استاد حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل صاحب اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت مولوی صاحب سلسلہ احمدیہ کے ایک ستون تھے۔دینی علوم میں انہیں بے نظیر تبحر حاصل تھا۔حضرت مولوی صاحب ان چند انسانوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر لمحہ کو رضائے یار کے حصول کیلئے صرف کیا۔خدمت دین ان کا ہمیشہ نصب العین رہا اور وہ اپنے آرام اور اپنے سکھ کو ہمیشہ دین کی خاطر قربان کرتے رہے ہیں۔ہیں برس سے زیادہ عرصہ گزرا کہ مدرسہ احمدیہ کی چوتھی جماعت میں مجھے حضرت مولوی صاحب کی شاگردی کا فخر حاصل ہوا تھا۔اس کے بعد میں نے ان سے مختلف جماعتوں میں مختلف کتابیں پڑھی ہیں اور میں آج تک ان کا شاگر درہا ہوں۔کبھی کوئی مشکل مسئلہ یا سوال ایسا نہیں ہوا کہ مجھے اس کے حل میں ان کی مدد نہ ملی ہو۔مجھے یہ فخر ہے کہ میں ان کی زندگی کے آخری ایام تک ان سے استفادہ کرتا رہا۔حضرت مولوی صاحب مرحوم ان اساتذہ میں سے تھے جن سے طالب علم دلی انس رکھتے اور انہیں اپنے لئے اسوۂ حسنہ رکھتے۔حضرت مولوی صاحب کو بھی اپنے طالب علموں خصوصاً ان طالب علموں سے جن کے متعلق ان کو یقین ہو کہ یہ خدمت دین کیلئے زندگی وقف رکھتے ہیں خاص محبت ہوتی تھی۔ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے اور انہیں خدمت دین کی ترغیب دلاتے رہتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کے چند امتیازی شمائل یہ ہیں۔- سادگی : اتنے علم و فضل کے باوجود لباس میں نہایت سادگی تھی ، کھانے میں سادگی تھی ، کئی مرتبہ دیکھا کہ مطالعہ کی دھن میں کھانے تک کا خیال نہیں رہا۔۲۔صاف گوئی: حضرت مولوی صاحب قابل اصلاح امور کیلئے کہنے میں مومنانہ شجاعت رکھتے تھے اور صاف طور پر مناسب الفاظ میں ہر خور دو کلاں کو بتا دیتے تھے کہ یہ امر قابل اصلاح ہے۔کسی کے عیب یا برائی پر کینه توزی ان کا شیوہ نہ تھا۔اگر کوئی امر نا پسند ہوا تو ناراضگی کا اظہار کر دیا اور دل صاف ہو گیا۔شاگرد کے اعتراف خطا کے بعد بہت ہی جلد خوش ہو جانے والے مہربان استاد تھے۔۔نظام سلسلہ کا احترام : حضرت مولوی صاحب اس بارے میں بہت شدید تھے۔کسی رنگ میں کسی انسان سے اس معاملہ میں کوتا ہی قابل برداشت نہ جانتے تھے۔