حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 680 of 923

حیاتِ خالد — Page 680

حیات خالد 669 گلدستۂ سیرت نے لکھا کہ ہم بعض لوگوں کو تبلیغ کرنے گئے تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں تبلیغ نہ کریں ہم نے آزما کر دیکھ لیا ہے آپ کے ساتھ تو خدا کا تعلق ہے ہم تو آپ کے مبلغ کو مارنے گئے تھے مگر ہماری بندوقیں نہ چل سکیں حالانکہ ہم نے اس سے پہلے خوب ٹیسٹ کر لیں تھیں۔جب آپ کا مبلغ گزر گیا تو پھر ہم نے بندوقیں چلائیں تو وہ چل گئیں۔جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔جو خدا کے لئے گھر چھوڑتا ہے خدا اُس کا ہوتا ہے۔آپ کو زندگی میں ہی اللہ تعالیٰ نے بشارت دے دی تھی کہ اُس نے آپ کی ساری دعائیں قبول کرلی ہیں۔الحمد للہ آپ کی وصیت کا حساب نبالکل صاف تھا۔وفات سے ایک روز قبل رسید لے کر وصیت کے فارم کے ساتھ رکھ دی تھی دفتر والوں نے کہا بھی کہ رسید پھر لے لیں مگر مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں میں نے ابھی لینی ہے۔ایک باریکم رمضان المبارک کو مسجد مبارک میں درس کے بعد جب باہر نکلے تو جوتی غائب تھی۔چنانچہ وہیں سے ٹانگہ میں بیٹھ کر دکان پر گئے اور نئے بوٹ خریدے اور گھر آگئے۔دوسرے دن پھر بوٹ غائب تیسرے دن پھر غائب چوتھے روز ایک بیٹے کے بوٹ غائب ہو گئے۔گھر آئے تو ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ جوتی چور کہتا ہوگا کہ ان کو تو روزنی جوتی مل جاتی ہے۔ان کی ہی جوتی اٹھانی چاہئے۔آپ کو السلام علیکم کہنے کی بہت عادت تھی۔گھر میں داخل ہوتے تو سلام کہتے ہی جاتے جب تک اندر سے کوئی جواب نہ دے دیتا۔اسی طرح باہر بھی کوئی آپ کے پاس سے گزرتا خواہ بچہ ہی کیوں نہ و، خواہ کوئی جواب دے یا نہ دے سلام ضرور کہتے۔سواری میں بھی ہوتے سلام کہتے ہی جاتے تھے۔آپ اپنے آپ کو بہت ہی کمزور سمجھتے تھے اور بہت عاجزی سے دعائیں کرتے تھے۔ہر ایک کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔سوالی کو خالی نہ جانے دیتے تھے۔غریبوں کی بہت ہمدردی کرتے تھے۔کئی غریبوں کو گھر میں رکھا اور کئی قیموں کو کپڑے بنوا کر دیے۔اپنی بیٹی امتہ اللہ خورشید کی وفات کے بعد اس کی طرف سے دس روپے ماہوار ایک لڑکے اور لڑکی کو صدقہ کے طور پر تا زندگی دیتے رہے۔وفات سے چند روز پہلے کسی غریب کو پورا بستر دیا۔ایک دفعہ ایک مقدمہ آپ کے پاس آیا۔دو آدمی سفر کر رہے تھے کہ ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ چادر گرم میری سنبھال کر رکھنا میں ابھی آتا ہوں۔وہ چادر اس سے بے خبری میں گم ہوگئی۔تھوڑی دیر کے بعد آ کر اُس نے چادر مانگی تو چادر اس کے پاس نہیں تھی۔وہ فیصلہ کے لئے آپ کے پاس آئے۔چادر والا کہے کہ میری ماں کی چادر تھی میں