حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 679 of 923

حیاتِ خالد — Page 679

حیات خالد 668 گلدستۂ سیرت نے جاپان میں قرآن حفظ کیا تھا )۔ایک بطور مبلغ جاپان گئے تھے اور ایک سنگا پور۔وہ دونوں اب فوت ہو چکے ہیں۔اپنے بچوں کو بھی وقف کیا۔بڑے بیٹے عطاء الرحمن نے بھی وقف کیا۔عطاء الکریم شاہد لائبیریا میں تبلیغ کے لئے گئے تین سال بعد واپس آئے۔اور دوسرے عطاء المجیب جو پہلے تین سال لندن میں رہے پھر تقریبا نو سال جاپان میں رہ کر اب پھر لندن میں کام کر رہے ہیں۔سب سے بڑی بیٹی امتہ اللہ خورشید رساله مصباح کی ایڈیٹر بھی رہیں اور سینتیس سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔اس پر مولوی صاحب نے یہ مسئلہ بتایا کہ اگر بیوی کا مہر نہ ادا کیا گیا ہو تو اس کے حقیقی بہن بھائیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔خود مولوی صاحب نے اس پر عمل کر کے دکھایا کہ انہوں نے پہلی بیوی کا مہر جو اُن کی زندگی میں ادا نہیں کر سکے تھے وہ ان کے بچوں میں تقسیم کر دیا تھا اور ان کی وصیت کرا دی تھی۔میرا مہر بھی ادا کر دیا تھا۔اب میں چند واقعات خاص خاص لکھتی ہوں ورنہ ساری جماعت تو ان کو اکثر جانتی ہے۔گھر میں تو ان کو بیٹھنا ہی کم ملتا تھا۔چلتے پھرتے ہی دین کے اور دنیا کے کام کرتے رہتے تھے۔تہجد با قاعدہ پڑھتے تھے اور دردِ دل سے دعائیں کرتے تھے۔وقت پر پانچ نمازیں مسجد میں جا کر پڑھا کرتے تھے۔قادیان میں بعض دفعہ پانچ نمازیں پانچ مسجدوں میں جا کر پڑھا کرتے تھے۔آپ کی دعا ئیں بہت قبول ہوتی تھیں۔ایک دفعہ فرمایا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ داڑھی رکھنے والے بچوں کے حق میں دعائیں قبول ہوں گی۔دوسروں کے لئے نہیں۔مولوی صاحب جب تبلیغ کے لئے گئے تو راستے میں دعائیں کرتے جارہے تھے الہام ہوا کہ جو خدا کے لئے گھر چھوڑتا ہے خدا اس کا ہوتا ہے۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ مجھے سکون ہو گیا کہ خدا آگے بھی اور پیچھے بھی میری حفاظت کرے گا۔اب میرا خدا میرے ساتھ رہے گا۔اس سلسلہ میں ایک واقعہ فلسطین کا آپ نے سنایا کہ ایک دن میں شام کو حیفا سے کہا بیر جارہا تھا کہ دو دشمن میرے مارنے کے لئے تیار ہو کر اپنی اپنی رائفلیں تیار کر کے اور اچھی طرح ٹیسٹ کر کے جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گئے میں دعائیں پڑھتا ہوا چاندنی رات میں اکیلا جارہا تھا کہ جھاڑیوں میں کھسر پھسر کی آواز آئی۔میں نے سمجھا کہ کوئی جانور ہوگا۔میں نے پرواہ نہ کی اور آگے چلا گیا تو تھوڑی دیر کے بعد بندوقوں کے چلنے کی آواز آئی۔میں بہت حیران ہوا۔بعد میں معلوم ہوا کہ دو آدمی جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے جب بندوقیں چلائیں تو وہ اس وقت نہ چلیں جب باہر نکل کر چلا ئیں تو چل گئیں۔اس واقعہ کا علم فلسطین سے واپسی پر ہوا جب ایک دوست