حیاتِ خالد — Page 648
حیات خالد 643 آخری ایام خَفَى الْخُفَاشُ مِنْ جَمْعِ الْأَنَاسِي إِذَا بَزَغَتْ ذُكَاءُ أَبِي الْعَطَاءِ سَلامٌ وَافِرٌ وَافٍ لِطَيــ يَطِيرُ مِنَ الْفَنَاءِ إِلَى الْبَقَاء تَخِيمُ فِي دِيَارِ الصَّالِحِينَ تَابَدَ فِي رِيَاضِ الْأَوْلِيَاء فَقِيَّة فَاضِلَّ رَحْبُ الْخَيَالِ خَصِيبُ الدُّهْنِ فِي عِلْمِ الْمِرَاء سَلامٌ بَاهِـرْبَاءٍ لِحِلْ سَلَامًا وَقَت صُبْح والمساء الهى إِن خَلَقْتَ اَبَا الْعَطَاءِ فَكَثِرُ مِنْ مَّثِيلِ أَبِي الْعَطَاءِ كَمَا أَبْدَعْتَ خَلْقَ أَبِي الْعَطَاءِ كَذَا اَتْمِمْ فَيُوضَ أَبِي الْعَطَاءِ (محمد اسماعیل) ا اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اور مشکل اور تکلیف کے وقت اس کا شکر کرتے ہوئے اہم اس کے حکم سے اس دنیائے فانی میں آتے ہیں اور پھر اسی کی طرف دار البقاء میں لوٹ جاتے ہیں - ابو العطاء کے عطا کرنے پر ہم تیرے شکر گزار ہیں اور جب تو نے اسے واپس لے لیا تو اس پر ہم صبر ترجمہ:- کرتے ہیں ۴۔جب میں نے نابغہ روزگار ابو العطاء کی وفات کی خبر سنی تو میں دہشت زدہ ہو گیا اور میں نے بہت درد محسوس کیا مباحثے کے وقت تو اس سہیل ، ستارے کی مانند معلوم ہوتا ہے جو جاہلوں کی موت کی علامات کے طور پر نمودار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے جنگ کے میدانوں میں فتح مبین کا جھنڈا دیا ہے ادب کی بلندیوں میں تو بہت بلند و بالا ہو گیا اور تو پردوں کو چاک کرنے میں سیادت و قیادت حاصل کر چکا ہے۔- فن خطابت میں تو نے ایک نئی جدت پیدا کر دی ہے اور اس کے موتی لایا ہے۔لڑائی کے سمندر میں تو