حیاتِ خالد — Page 582
حیات خالد 576 ذاتی حالات رکھا ہے مَنْ كَانَتْ لَهُ أَنْثَى فَلَمْ يَأْدِهَا وَ لَمْ يَهِنْهَا وَلَمْ يُؤْقَرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا يَعْنِي الذَّ كُوْرَ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ (ابوداؤد) کہ جس کے ہاں بچی یا بچیاں ہوں وہ اسے زندہ رکھے باعزت رکھے اور لڑکوں کو اس پر ترجیح نہ دے بلکہ لڑکوں اور لڑکیوں سے یکساں سلوک کرے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔اس ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق میری زندگی گزری ہے اور میں نے جب کبھی خلوت میں اپنے اعمال کا جائزہ لیا ہے تو ان میں بس اسی ایک جذبہ کو بارگاہ رب العزت میں پیش کرنے کے قابل سمجھا ہے۔یہ ایک لمبی داستان ہے۔ہر شخص اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی وفات کا صدمہ اس کیلئے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔صلى مجھے اپنے بیٹے بھی پیارے ہیں بیٹیاں بھی پیاری ہیں مگر مذکورہ بالا حدیث نبوی ﷺ اور بچیوں کے بے لوث پیار نے میرے اندر ایسا رنگ پیدا کر دیا ہے کہ یہ کہنا غلام نہیں ہوگا کہ بعض پہلوؤں سے میں لڑکیوں سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔میری بچی عزیز و امتہ اللہ بیگم میری سب سے بڑی لڑکی تھی۔میرے ماموں حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب آف سروعہ کی نواسی تھی۔میں ابھی مدرسہ احمدیہ قادیان کی ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ اس کی ولادت ہوئی۔میں نے اس خوشی میں اپنے ساتھی طلبہ کو ایک پارٹی دی تھی۔عزیزہ امتہ اللہ ایک ہونہار، سعادت مند اور نہایت نیک بیٹی تھی۔وہ ابھی چھ سات سال کی تھی کہ اس کی والدہ محترمہ میری پہلی بیوی محترمہ زینب بیگم صاحبہ وفات پاگئیں اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہو ئیں۔میرے تینوں بے ماں کے بچے ( عزیزہ امتہ اللہ عزیزہ امتہ الرحمن سلمیا اللہ اور عزیز عطاء الرحمن سلمہ اللہ ) اپنی دوسری والدہ، میری موجودہ رفیقہ حیات محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ کی آغوش میں پروان چڑ ھے اور یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ ہمیشہ ہی انتہائی پیار ومحبت سے گزارہ ہوتا رہا ہے اور انہوں نے حقیقی ماں کی طرح بچوں کو پالا ہے۔جَزَاهَا اللهُ تَعَالَی۔عزیز وامتہ اللہ بیگم نے مڈل کے بعد لجنہ کے زیر انتظام مذہبی تعلیم کا چار سالہ کورس پورا کیا۔ذاتی مطالعہ کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے ادیب عالم کا امتحان بھی پاس کیا۔وہ پندرہ سال تک جماعت کی مستورات کے واحد ماہنامہ مصباح کی مدیرہ رہی۔اب مصباح کی علمی اور دینی حیثیت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔۔للہ تعال نے عزیز کوتحریر کا ملک بھی بخشا تھ بہت اچھے مضا میں لکھتی تھی۔اسے قوت گویائی بھی عطا فرمائی تھی بہت عمدہ اس کی تقریر ہوتی تھی۔طبیعت میں روانی اور جوش تھا۔مستورات کے جلسہ سالانہ