حیاتِ خالد — Page 554
حیات خالد 547 متفرق دینی خدمات زندگیوں کو ان کے مطابق نہ ڈھائے۔" تحمید الاذہان کے دور جدید کا یہ پہلا شمارہ ۴۲ صفحات پر مشتمل تھا۔حضرت مولانا ابوالعطا ء صاحب پرست جالندھری نے اپنے ساتھ بطور نائب ایڈیٹرز مکرم قاضی محمد رشید صاحب اور مکرم عطاء الحجیب صاحب را شد کو منتخب فرمایا۔رسالہ میں سب سے پہلے قرآنی اسباق کے تحت بچے واقعات تحریر کئے گئے تھے۔اس کے بعد دور جدید کے موقع پر موصول ہونے والے آٹھ پیغامات شائع کئے گئے۔اس کے علاوہ بیچ کی برکات“ کے موضوع پر ایک خوبصورت کہانی ، دو نظمیں، مسلمان بہنوں کی دعا اور احمدی بچے کی آرزو شامل کی گئیں۔دو عدد پہیلیاں مضمون ”استاد کی نصیحتیں ، عجائبات دنیا یعنی بجلی پیدا کرنے والی مچھلیاں ، معلومات، لطائف تشخیز الا ذہان کے ۹۱ بنیادی خریدار ، سوالات ، بچوں کے لئے انعامات کا اعلان اور آخری صفحے پر یہ میرا خدا ہے“ کے عنوان سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی نظم شامل کی گئی۔رسالہ کا سائز 8x5 انچ تھا۔" حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی ادارت میں یہ رسالہ بڑی برکت کے ساتھ شروع ہو کر چھ ماہ تک کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔اس کے بعد دسمبر ۱۹۵۷ء میں تعویذ الاذہان کا انتظام مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سپرد کر دیا گیا۔اور شعبہ اطفال الاحمدیہ کے تحت یہ رسالہ نکلنا شروع ہوا۔تشحید الا زبان کے دور جدید کے آغاز میں رسالہ کا سائز چھوٹا ہوتا تھا لیکن جولائی ۱۹۶۶ ء میں اس کا سائز بڑھا دیا گیا۔دور جدید کے تقریباً گیارہ سال کے بعد حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے صاحبزادے محترم عطاء الحجیب صاحب راشد نے دسمبر ۱۹۶۸ء میں تلمیذ الا زبان کی ادارت سنبھالی اور تقریباً پونے دو سال تک یہ فرائض سر انجام دیتے رہے۔آج یہ رسالہ خدا کے فضل سے احمدی بچوں کا ایک مقبول رسالہ ہے۔اللہ تعالیٰ اسے احمدی بچوں کے لئے مقبول خدمات انجام دینے والا بنائے رکھے۔آمین الفرقان میں شائع ہونے والے بعض اعلانات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مولانا رسالہ بلال ابوالعطاء صاحب جالندھری نے ۱۹۵۶ء میں رسالہ تحیۃ الاذہان کے اجراء سے پہلے، بچوں کے لئے ایک رسالہ ”ہلال“ کے نام سے نکالنے کی بھی تجویز فرمائی۔چنانچہ حضرت مولانا نے ۱۵ دسمبر ۱۹۵۶ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے نام ایک خط لکھا جس میں حضور سے اس رسالہ کے اجراء کے بارے میں پیغام عطا کرنے کی درخواست کی۔حضرت مولانا کا خط اور حضور رضی اللہ عنہ کا