حیاتِ خالد — Page 550
حیات خالد 543 متفرق دینی خدمات آپ کی درخواست وقف زندگی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں موصول ہوئی بعد ملا حظہ حضور نے فرمایا ” ٹھیک ہے“۔ملاحظہ آپ کی درخواست حضور کے ارشاد کے مطابق دفتر وکالت دیوان میں بھجوا دی گئی ہے۔حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آغاز خلافت ثالثہ کے جلد بعد آپ کو ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد تعلیم القرآن و وقف عارضی مقر فرمایا جس پر آپ تادم آخر فائز رہے۔تشحیذ الاذہان کے دور جدید کا آغاز ۱۹۰۶ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک جدید انجمن کی بنیاد رکھی۔اس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجمن تفخیذ الاذہان عطا فرمایا۔اس انجمن کی غرض و غایت جو اس کے نام سے ہی ظاہر ہے یہ تھی کہ احمدی نوجوانوں کو پہلی مرتبہ کسی فعال تنظیم کے ذریعہ منتظم کیا جائے اور ان کے ذہنوں کو ایسی جلا نصیب ہو کہ وہ دین کے مخلص خادم بن سکیں۔یکم مارچ ۱۹۰۶ ء سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ادارت میں مجلس تحیۃ الاذہان کے ترجمان کے طور پر ایک سہ ماہی رسالہ کا اجراء ہوا۔رسالہ کا نام بھی سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تمحمد الا ذبان عطا فرمایا تحمید الا ذہان ابتداء میں سہ ماہی رسالہ تھا مگر اگلے ہی سال ۱۹۰۷ ء میں ماہوار کر دیا گیا۔اس رسالہ نے بہت تیزی کے ساتھ ترقی کی اور بہت جلد کامیاب رسالوں کی صف اول میں شمار ہونے لگا۔۱۹۱۴ء میں تشحید کے مدیر حضرت قاضی محمد ظہور الدین اکمل صاحب مقرر ہوئے۔جنہوں نے آٹھ سال تک رسالہ کی ادارت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے۔آغاز سے ہی اس رسالہ میں نہایت اعلیٰ درجہ کے علمی اور دینی مضامین شائع ہوتے تھے۔مارچ ۱۹۲۲ء میں رسالہ تفخیذ الاذہان کو ریویوآف ریلیجنز اُردو میں مدغم کر دیا گیا۔ربوہ میں رہائش پذیر ہونے کے بعد محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ احمدی بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک رسالہ جاری کیا جائے۔حضرت مولانا صاحب موصوف فرماتے تھے کہ اس تحریک کا بڑا موجب میرا چھوٹا بیٹا عزیز عطاء الجیب راشد ( حال امام بیت الفضل لندن) تھا۔چنانچہ حضرت مولانا صاحب نے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح