حیاتِ خالد — Page 546
حیات خالد 539 متفرق دینی خدمات یہ ہوا کہ قادیان سے احمدی احباب ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔۱۰/ نومبر ۱۹۴۷ء وہ دن تھا جب جامعہ احمدیہ کے اساتذہ اور طلباء ایک کانوائے کے ذریعہ پاکستان پہنچ گئے۔جماعت احمدیہ کا عارضی وو مرکز لاہور میں قائم ہوا۔جلد ہی نئے مرکز کیلئے بے آب و گیاہ میدان میں ربوہ نام کا نیا شہر بسانے کا فیصلہ ہو گیا۔جو دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر اور لائکیپور (بعد ازاں فیصل آباد ) اور سرگودھا کے عین وسط میں تھا۔تقسیم ملک کے بعد جماعت کو اس مرکز میں اکٹھا کرنے کا کام ایک کٹھن مرحلہ تھا جو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیابی سے پورا ہوا۔نئی صورت حال میں مدرسہ احمد یہ اور جامعہ احمدیہ کو ختم کر کے ایک ادارہ بنا دیا گیا اور اس کے پرنسپل کے طور پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے سپر د قیادت کی ذمہ داری ہوئی۔یہ ادارہ پہلے چنیوٹ میں اور پھر احمد نگر میں قائم ہوا۔احمد نگر ربوہ سے قریبا ۴ کلومیٹر بطرف سرگودھا واقع ہے۔یہ دور بے حد بے سروسامانی کا تھا۔بعض اوقات تو کھانے پینے کو بھی کچھ میسر نہ ہوتا تھا۔چار پائیوں پر جامعہ کے دفتری امور کے رجسٹر پھیلا کر دفتر بنایا گیا۔نامکمل جگہ اور تنگ کمروں میں بھی حضرت مولانا اور آپ کے جاں نثار شاگردوں نے علم کی شمع فروزاں رکھی۔ہوا۔صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی پہلی سالانہ رپورٹ ۴۸۔۱۹۴۷ء جامعہ احمدیہ ومدرسہ احمدیہ میں جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے الحاق اور از سرنو قیام کی روداد حسب ذیل الفاظ میں درج ہے :- موسمی تعطیلات ۱۹۴۷ ء تک جامعہ احمدیہ اور ، - احمد یہ قاز بیان میں بخیر وخوبی جاری رہے۔مگر تعلیمات کے دوران میں جو طلباء ، اپنے گھروں میں گئے وہ فسادات کی وجہ سے واپس نہ آ سکے۔اس لئے تعطیلات کے اختتام پر قادیان میں بوجہ ہنگامی حالات ہونے کے یہ مدارس جاری نہ کئے جاسکے۔مورخہ ۱۰/ نومبر ۱۹۴۷ء کو جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ لا ہور آئے اور سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت ۱۳ نومبر سے دونوں ادارے لاہور میں جاری کر دیئے گئے۔مگر جگہ کی تنگی کی وجہ سے نیز ہوسٹل کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں اداروں کو چنیوٹ منتقل ہونے کا حکم دیا گیا۔پھر دو ماہ کے بعد پرنسپل صاحب (مولانا ابوالعطاء صاحب) کی درخواست پر دونوں ادارے احمد نگر میں منتقل کئے گئے جہاں یہ اب تک قائم ہیں۔رصہ زیر رپورٹ میں مدرسہ احمدیہ کی جماعت اول ، دوم وسوم اور جامعہ احمدیہ کے درجہ اولی