حیاتِ خالد — Page 497
حیات خالد 495 تصنیفات (۱) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں۔اس مناظرہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے حضرت کا سر الصلیب علیہ السلام یعنی مسیح محمدی کے شاگرد کو نمایاں فتح عطا کی اور پادری عبدالحق صاحب یہ مناظرہ درمیان میں ہی نا مکمل چھوڑ کر کنارہ کشی اختیار کر گئے“۔(۲) جناب مولانا عبد الماجد صاحب ایڈیٹر صدق جدید تحریر فرماتے ہیں۔یہ مناظر و موضوع الوہیت مسیح پر مولوی صاحب موصوف اور ایک مسیحی مناظر پادری عبدالحق چندی گڑھ مشرقی پنجاب کے درمیان ہوا۔پڑھے لکھے مسلمانوں کے لئے پڑھنے کے قابل ہے۔پادری صاحب کی تحریروں میں قدیم یونانی معقولات کی اصطلاحات کی بھر مار اور درشت کلامی اور حریف پر مسلسل ذاتی حملے نمایاں ہیں۔(صدق جدید لکھنو ۲۲ فروری ۱۹۶۳ء ) (۳) جناب فاضل مدیر هفت روزه بدر قادیان دارالامان نے تحریر فرمایا ہے۔۲۳۲ صفحات کی یہ کتاب اپنے اندر مفید حوالوں کا بیش قیمت ذخیرہ رکھتی ہے۔مسیحیوں کے ساتھ تبلیغی گفتگو کے لئے جمع شدہ حوالہ جات بڑے ہی کارآمد ہیں۔(۴) جناب ایڈیٹر صاحب روز نامہ الفضل ربوہ فرماتے ہیں۔۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پادری صاحب نفس مسئلہ کی بجائے اپنے کتابی علم کے اظہار پر تلے ہوئے ہیں۔اس کے مقابلہ میں مولانا کا انداز بیان نہایت سلیس قابل فہم ہے۔کتاب ہذا ہر احمدی اور غیر - احمدی مسلمان کے لئے عیسائیوں کے مقابلہ میں ایک نہایت موثر دستاویز ہے (۵) جناب رانا محمد اسلم صاحب بی۔اے جنرل سیکرٹری تحقیق مرکز عیسائیت " اچھرہ لاہور نے تحریر فرمایا ہے کہ:- مولوی ابوالعطاء صاحب نے اس مناظرہ میں مشہور ترین مسیحی مناظر کو شکست فاش دے کر قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا ہے۔اب اس موضوع پر مسیحی علماء کا لکھنا کھسیانی بلی کھمبا نوچے" کے (الفرقان جولائی ۱۹۶۳ ء آخری صفحہ ) مترادف ہوگا۔۴۔۱۹۳۳ء میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے امریکن مشن قاہرہ کے انچارج مباحثہ مصر ڈاکٹر فیلی بس سے میسوع مسیح کے کفارہ اور آپ کی ملی یموت پر از روئے بائبل تین مناظرات درج ذیل عناوین پر قرار پائے :-