حیاتِ خالد — Page 496
حیات خالد 494 تصنیفات مجھ پر عظیم احسان ہے کہ اس نے مجھے احمدیت کی دولت عطا کی۔میں کبھی بھی اس احسان کا شکر یہ ادا نہیں کر سکتا۔ایک ادنی کوشش کے طور پر میں چاہتا ہوں کہ اس کتاب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کر دوں تا کہ انگریزی دان طبقہ بھی اس کتاب کے فیض کو حاصل کر سکے۔کہنے لگے کہ کیا آپ کی طرف سے اس بات کی اجازت ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کار خیر میں اجازت کی کیا بات ہے۔ویسے بھی ابا جان نے لکھا ہے کہ اگر چہ یہ کتاب میں نے لکھی ہے لیکن دراصل یہ ساری جماعت ہی کی ہے کوئی شخص بھی جماعتی نظام کی اجازت سے اس کو شائع کر سکتا ہے۔آپ بڑے شوق سے ترجمہ کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔ترجمہ مکمل ہونے پر جماعتی نظام کی اجازت سے اپنے وقت پر اس کی اشاعت بھی ہو جائے گی۔مکرم غوری صاحب اس بات پر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے فوری طور پر اس کارِ خیر کا آغاز کر دیا اور آٹھ دس ماہ میں یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکمل کر دیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء کتاب اکتوبر ۱۹۵۵ء میں شائع ہوئی۔۲۔بہائی تحریک کے متعلق پانچ مقالے تعداد صفحات ۲۵۶۔اس کے بارے میں جناب ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت“ لکھتے ہیں :- ابو العطاء جالندھری صاحب عقائد کے لحاظ سے احمدی ہیں۔انہوں نے کوئٹہ میں بہائی جمعیت کو ان کے عقائد کے بارے میں تنقیدی دعوت دی اور اس نئی تحریک کے متعلق پانچ سیر حاصل مقالے احمد یہ مسجد کوئٹہ کے احاطے میں سنائے اور ساتھ ہی بہائیوں کو دعوت دی کہ وہ ان کی تنقید و تنقیح کا جواب دیں۔مؤلف کا دھوئی یہ ہے کہ بہائی جمعیت ان کا جواب نہ دے سکی۔پہلا مقالہ بانی اور بہائی تحریک کی تاریخ سے متعلق ہے دوسرے مقالہ میں بہائیوں کے عقائد کا تحریک احمدیت سے مقابلہ کیا گیا ہے۔تیسرا مقالہ جناب بہاء اللہ کے دعوی کی نوعیت سے بحث کرتا ہے۔چوتھا مقالہ قرآنی شریعت کے دائمی ہونے کے متعلق ہے۔اور پانچویں مقالہ میں قرآنی شریعت اور بہائی شریعت کا موازنہ کیا گیا ہے“۔(نوائے وقت ۲۲ جون ۱۹۵۶ء) یہ مناظرہ ۱۹۶۱ء میں حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری اور جناب تحریری مناظره پادری عبدالحق صاحب آف چندی گڑھ (بھارت) کے درمیان ہوا۔کتاب کے صفحات ۲۳۲ ہیں۔اس کے متعلق چند قیمتی مختصر آراء درج ذیل ہیں۔