حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 415 of 923

حیاتِ خالد — Page 415

حیات خالد 410 پاکستان کی قومی اسمبلی میں علیہ السلام نے جماعت کو قرآن مجید کی روشنی میں جملہ ایمانیات پر ایمان لانے کی تاکید فرمائی ہے اور رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبیین یقین کرنے کا حکم دیا ہے۔بلکہ یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔قرآن پاک کی آیات، احادیث نبویہ ، اخت عربی کے حوالہ جات اور بزرگان اُمت کے اقتباسات کی روشنی میں خاتم النبیین کا مفہوم ایسے واضح رنگ میں بیان ہوا ہے کہ بھر تسلیم کوئی چارہ نہیں۔اس مطبوعہ بیان میں جماعت کے حالات اور اسلامی خدمات کا بھی مفصل تذکرہ ہے۔غرض یہ بیان اپنی ذات میں ایک مکمل دستاویز ہے۔! اراکین اسمبلی کو اس مطبوعہ بیان کے ساتھ دیگر کتب ورسائل بھی بطور ضمیمہ پیش کئے گئے تھے۔مطبوعہ بیان کے پڑھے جانے کے بعد جناب اٹارنی جنرل یحیی بختیار صاحب نے حضور ایدہ اللہ بصرہ سے سوالات دریافت کئے انداز آتین چار صد کے قریب مختلف النوع سوالات ہوں گے۔یہ سوالات اٹارنی جنرل صاحب نے ان سوالات میں سے انتخاب کئے ہوئے تھے جو علماء نے انہیں لکھ کر دئیے تھے۔سیاسی سوالات بھی تھے اور مذہبی بھی۔حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ بنصرہ نے ہر سوال کا مفصل اور واضح جواب دیا۔یہ منظر بھی بہت ایمان افزا تھا۔اے کاش کہ میں اس کی تفصیل بیان کر سکتا۔ہمارے مخالف علماء تو اپنے لیکچروں میں غلط سلط باتیں بیان کرتے رہتے ہیں۔مگر ہم تو اخلاقی طور پر پابند ہیں۔جب تک خود حکومت اس کارروائی کو شائع نہ کرے ہم بھی اس کو شائع نہیں کریں گے۔ہاں اتنا بتا دینے میں کوئی ہرج نہیں کہ سوال و جواب کا یہ سلسلہ بہت پر کیف تھا۔اور جب کبھی صحیح طور پر شائع ہو گا سب قارئین اس سے لطف اندوز ہوں گے اور پیش کردہ حوالہ جات کو پڑھ کر سب لوگ ملک نورالحسن صاحب وٹو ایم۔اے کی طرح پکار اُٹھیں گے کہ : - ”مرزائیوں نے قومی اسمبلی میں انہیں پیش کر کے ان مولویوں کی زبان بند کر دی تھی۔اخبار اہلحدیث لاہور۔۱۳ / دسمبر ۱۹۷۴ء) اب اگر ہم سے یہ سوال ہو کہ ان حالات کے باوجود فیصلہ احمدیوں کے خلاف کیوں ہوا؟ تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اسے ایک سیاسی راز ہی مجھے ورنہ بقول ملک غلام جیلانی صاحب حقیقت تو یہی تھی کہ :- قومی اسمبلی ایسا فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں۔(نوائے وقت ۲۲ دسمبر ۱۹۷۴ء ) کئی سر بر آوردہ افسروں کی آج بھی یہی رائے ہے کہ : -