حیاتِ خالد — Page 414
حیات خالد 409 پاکستان کی قومی اسمبلی میں جائزہ لینے اور ان پر طویل جرح کرنے کے بعد سفارشات پیش کی تھیں۔کمیٹی کے سامنے ربوہ جماعت کے سربراہ نے ۴۱ گھنٹے اور پچاس منٹ تک شہادت قلمبند کرائی اور ان کا بیان گیارہ دن تک جاری رہا۔اس اجمال کی مختصر تفصیل یوں ہے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کے امام سید نا حضرت حافظ میرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ کو قومی اسمبلی کی کمیٹی میں اپنی شہادت پیش کرنے کے لئے دعوت دی گئی تھی۔حضور مقررہ ایام میں اسمبلی ہال میں تشریف لے جاتے رہے۔حضور کے ہمراہ حکومت کی منظوری کے مطابق چار افراد بطور وقد تشریف لے جاتے۔(۱) محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر۔(۲) محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب۔(۳) مولوی دوست محمد صاحب شاہد۔(۴) خاکسار ابوالعطاء جالندھری۔اجلاس کے ایام میں مختلف اوقات میں وقفہ وقفہ کے ساتھ شہادت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔درمیانی وقفہ میں وفد کے ٹھہرنے کے لئے اسمبلی کی عمارت میں انتظام موجود تھا۔جب کمیٹی کا کورم پورا ہو جاتا تھا تو اطلاع ملنے پر حضور اید و اللہ بنصرہ اپنے وفد کے ساتھ اسمبلی ہال میں تشریف لے جاتے تھے۔دروازہ سے داخل ہوتے وقت حضور بآواز بلند السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کان، کہتے اور پھر ہم پانچوں مقررہ جگہ پر مقررہ کرسیوں پر بیٹھ جاتے۔حضور ایدہ اللہ بنصرہ کی کرسی درمیان میں ہوتی تھی اور ہم چاروں میں سے دو حضور کے دائیں طرف اور دو ہا ئیں طرف بیٹھتے تھے۔ہمارے سامنے حاضر ارکان اسمبلی بیٹھے ہوتے تھے۔سپیکر صاحب بطور چیئر مین اور سیکرٹری صاحبان ہمارے پیچھے بلند جگہ پر بیٹھتے تھے۔لاؤڈ سپیکر کا ایسا انتظام تھا کہ آواز سارے ہال میں پہنچتی تھی اور ریکارڈ ہوتی تھی۔ہر اجلاس سے واپسی کے وقت بھی ہمارے امام ہمام ایدہ اللہ بنصرہ اور ہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہہ کر ہال سے نکلتے تھے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے سید نا حضرت خلیفہ صبیح اید اللہ بنصر نے بطور امام جماعت احمد یہ پہلے وہ مطبوعہ بیان پڑھ کر سنایا جو جماعت کی طرف سے طبع کرا کر اسمبلی میں داخل کیا گیا تھا اور ہر رکن اسمبلی تک پہنچایا جا چکا تھا یہ بیان قریباً دوصد صفحات پر مشتمل تھا اور نہایت مدلل اور موثر بیان تھا۔اور پھر جس مخلصانہ اور محبانہ انداز میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے وہ مضمون پڑھ کر سنایا اس کا خاص اثر تھا۔یہ بیان کئی دنوں میں ختم ہوا۔اس بیان میں بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے بانی