حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 393 of 923

حیاتِ خالد — Page 393

حیات خالد 386 اہم شخصیات سے ملاقاتیں کے خاکسار نے جواب دے دیئے مگر جناب خواجہ ناظم الدین صاحب کی خواہش تھی کہ تقریر کا تسلسل قائم رہے اور سوال بعد میں ہوں۔جب میں آخری حصہ بیان پر پہنچا تو خواجہ صاحب نے فرمایا کہ یہ پوائنٹ تو دیگر مسائل پر گفتگو واضح ہو چکا ہے اب دوسرے صاحب بیان شروع کریں۔اس پر حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم نے مخالفین کی اشتعال انگیزی پر مدلل تقریر فرمائی اور اخبارات کے حوالے پیش فرمائے۔یادر ہے کہ شروع سے ہی مخالف علماء برآمدہ میں ہمارے بیانات سن رہے تھے وہ بعض کتابیں وزراء کرام کو بھجوانے لگے جس پر مجلس کا رنگ کچھ بدل گیا۔تیسرے نمبر پر جناب ملک عبد الرحمن صاحب خادم مرحوم نے جب مختلف فرقوں کے علماء کے باہمی فتووں کے انبار پیش فرمائے تو خواجہ صاحب موصوف حیران رہ گئے کہ (غیر از جماعت ) علماء نے بات کہاں تک پہنچا دی ہے۔اسی دوران مکرم فضل الرحمن صاحب بنگالی بول پڑے کہ ہم آپ لوگوں کو اب تک برداشت کرتے رہے ہیں آئندہ یہ صورت نہ ہو گی۔اس کے جواب میں محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے نہایت غیورا نہ جواب دیا کہ آپ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا خاص سلوک یا رعایت کی ہے اور آپ آئندہ کیا کریں گے۔گفتگو میں قدرے تلخی پیدا ہو گئی۔گفتگو کا یہ حصہ زیادہ تر انگریزی میں ہوا۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد نے بھی اس میں مؤثر حصہ لیا اور جماعت کی خدمات پاکستان کا بھی تذکرہ فرمایا نیز بتلایا کہ ہم تو اپنے اصول کے مطابق حکومت سے تعاون کرتے ہیں۔یہ ہماری مذہبی تعلیم ہے۔ہمیں کوئی لالچ یا طبع نہیں ہے۔اس مرحلہ پر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب مرحوم کی حلیمی اور بردباری نے پھر ماحول کو تحقیقی اور علمی بنادیا اور قریباً تین گھنٹے کی یہ مجلس آخر نہایت اچھی فضا میں ختم ہوئی۔خواجہ صاحب کے آخری بیان سے مترشح ہوتا وزیر اعظم کے مجموعی تاثرات اور اعلان تھا کہ ان کے نزدیک جماعت احمدیہ کو منکر ختم نبوت ٹھہرانا یا انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینا بے معنی بات ہے۔البتہ انہوں نے فرمایا کہ میں یہ اعلان کر دوں گا کہ سرکاری ملازم تبلیغ نہ کیا کریں اور یہ اعلان سب فرقوں پر یکساں حاوی ہوگا۔چنانچہ انہوں نے چند روز بعد یوم پاکستان کے موقعہ پر اپنی تقریر میں یہ اعلان کر دیا تھا۔اس ملاقات کے بعد سردار عبدالرب صاحب نشتر سے چند روز بعد ایک انفرادی دلچسپ تبلیغی گفتگو ہوئی تھی جو آئندہ درج ہو گی۔انشاء اللہ العزیبا۔(ماہنامہ الفرقان نومبر ۱۹۷۰ء صفحه ۲ تا ۸)