حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 392 of 923

حیاتِ خالد — Page 392

حیات خالد 385 اہم شخصیات سے ملاقاتیں ان دس حوالہ جات کے پڑھنے سے اس مجلس میں عجیب موقعہ پیدا ہو گیا تھا الحمد للہ۔میں نے کہا کہ جب ہم آنحضرت ﷺ کو خاتم المبین مانتے ہیں، خود بانی سلسلہ احمدیہ کے کلمات آپ کے سامنے ہیں، کتا ہیں موجود ہیں تو پھر کسی مولوی صاحب کا یہ کہنا کیا وزن رکھتا ہے کہ احمدی رسول مقبول مہینے کو خاتم النعلین نہیں مانتے؟ میں نے واضح کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلف صالحین کے اقتباسات کا تذکرہ خاتم النبین تو احمدی بھی مانتے ہیں اور غیر احمدی بھی۔اس تفسیر میں دونوں فریق متفق ہیں کہ خاتم الحنین کی رو سے نئی شریعت والا نبی نہیں آسکتا۔اس مرحلہ پر خاکسار نے سلف صالحین کے دس اقتباسات عربی دارد و پیش کئے اور اصل کتابیں میز پر رکھ دیں۔ان اقتباسات کا خلاصہ یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد انقطاع صرف تشریعی نبوت کا ہے۔پھر میں نے واضح کیا کہ ہمارے معنوں کے رو سے فیوض محمد یہ جاری ہیں اور آنحضرت علی کی پیروی سے خیر امت کے افراد کو وہ تمام انعام مل سکتے ہیں جو پہلی امتوں کو ملے تھے۔ان معنوں کے رو سے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور برتری نمایاں ہوتی ہے۔ختم نبوت میں نہیں بلکہ آنے والے موعود شخص میں اختلاف ہے چھپیں تمہیں منٹ کے اس بیان کے آخر میں میں نے کہا کہ در حقیقت تو خاتمیت محمد یہ ہے کے بارے میں ہمارے اور دوسرے علماء میں اختلاف کا کوئی سوال نہیں۔وہ بھی ایک مسیح موعود کے امت میں آنے کے قائل ہیں اور ہم بھی۔اور دونوں فریق حضرت خاتم النبیین عملے کے بعد آنے والے مسیح موعود کو آنحضرت کا تابع نبی مانتے ہیں جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ خاتم النبین ﷺ کے بعد امتی اور تابع نہی آسکتا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں۔اختلاف تو صرف شخصیت میں ہے کہ امت محمدیہ کا مسیح موعود کون ہے؟ آیا حضرت عیسی بن مریم ہیں جنہیں قرآن مجید نے صرف رَسُولًا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قرار دیا ہے یا اُمت محمدیہ کا ایک فرد اور آنحضرت ﷺ کا ایک امتی ہے۔پس جماعت احمدیہ پر یہ الزام سراسر خلاف واقعہ ہے کہ ہم معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے۔ہم حضور علیہ السلام کو پورے یقین سے اور حقیقی رنگ میں خاتم النعلین مانتے ہیں۔میری تقریر کے دوران دو ایک موقعہ پر مکرم سردار عبدالرب صاحب نشتر نے سوال کئے تھے جن