حیاتِ خالد — Page 389
حیات خالد 382 اہم شخصیات سے ملاقاتیں دوسرے روز ہم کراچی کے لئے روانہ ہو گئے۔یہ جناب وزیر اعظم کے کمرے میں جولائی ۱۹۵۲ء کے آخری ایام تھے یا اگست ۱۹۵۲ء کے شروع کے دن تھے۔ہمارا قیام ایک ہوٹل میں تھا۔امیر وفد جناب مولانا عبد الرحیم صاحب درد نے ہر رکن کے ذمہ الگ الگ مضمون مقرر کر دیا اور ہم سب نے با قاعدہ حوالے نوٹ کر لئے۔اصل کتا بیں ساتھ رکھ لیں۔مقررہ تاریخ پر ہم سب وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب مرحوم کے بالائی کمرہ میں حاضر ہوئے۔بڑے میز کے ایک طرف خواجہ صاحب موصوف کے علاوہ سردار عبد الرب صاحب نشتر ، میاں مشتاق احمد صاحب گورمانی ، فضل الرحمن صاحب بنگالی اور خواجہ صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری تشریف فرما تھے اور میز کے دوسری طرف علی الترتیب خاکسار ابوالعطاء، محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس ،مرحوم، محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم ، محترم شیخ بشیر احمد صاحب اور محترم مولانا عبدالرحیم صاحب درد مرحوم بیٹھے تھے۔ہمارے امیر وند نے خواجہ صاحب اور دیگر وزیروں سے ہم سب کا تعارف کرایا اور یہ بھی فرمایا کہ پہلے ہماری طرف سے ابوالعطاء بات کریں گے۔خاکسار نے آغاز گفتگو یوں کیا کہ ہم احمدی بھی پاکستان کے آزاد شہری مسئله ختم نبوت پر گفتگو ہیں اور ہمیں بھی اس ملک میں تمام باشندوں کی طرح مساوی حقوق حاصل ہیں۔آپ اس ملک کے ذمہ دار وزراء ہیں۔آپ کے پاس ہمارے مخالف علماء نے آ کر ہمارے خلاف بہت سی باتیں کہی ہیں ہم اس بارے میں وضاحت کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔امید ہے کہ آپ ہماری باتوں کو بھی پوری توجہ سے سماعت فرمائیں گے۔میں نے جناب وزیر اعظم صاحب کو توجہ دلاتے ہوئے عرض کیا کہ علماء کے جو وفود آپ کو ملے ہیں انہوں نے آپ سے کہا ہوگا کہ احمدی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم انہیں نہیں مانتے۔محترم جناب خواجہ صاحب مرحوم نے اثبات میں جواب دیا۔میں نے عرض کیا کہ میں صرف اس حصہ کے متعلق وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔میں نے عرض کیا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانتے ہیں انہوں نے ہمیں فرمایا ہے کہ : تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا "