حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 388 of 923

حیاتِ خالد — Page 388

حیات خالد 381 اہم شخصیات سے ملاقاتیں جناب مودودی صاحب نے فرمایا کہ آپ لوگ جا کر اپنے امام سے کہیں کہ اس وقت جماعت احمد یہ کے خلاف سخت شورش برپا ہے اور شدید خونریزی کا خطرہ ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ خاموشی سے اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیں یا پھر وہ عقائد اختیار کریں جو ہمیں گوارا ہوں ورنہ سخت خطرہ ہے۔میں مودودی صاحب سے پٹھان کوٹ کے دارالاسلام میں اچھی طرف گفتگو کر چکا تھا اور غالبا اس مجلس میں میں ان کے قریب اور سامنے تھا میں نے جواباً عرض کیا کہ جناب آپ نے ہمیں کیا پیغام دیا ہے؟ یہ پیغام ہم اپنے امام ایدہ اللہ بنصرہ کو کس طرح دے سکتے ہیں۔اس پیغام کو تو سن کر ہم خود شرمندہ ہیں کہ آپ ہمیں کیا کہ رہے ہیں۔اٹھی جماعتوں کی مخالفتیں ہوتی آئی ہیں اور نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے اس ملک میں بھی جماعت احمدیہ کی مخالفت ہو رہی ہے یہ وہی مخالفت ہے۔مودودی صاحب نے ناصحانہ انداز میں کہا کہ آپ میری بات مان لیں اور یہ پیغام اپنے امام کو پہنچا دیں۔اس مرتبہ کی مخالفت عام مخالفت نہیں۔یہ بہت گہری ہے اور اس کے نتائج بڑے سخت ہیں۔خاکسار نے مودودی صاحب سے پھر زور سے کہا کہ پیغام دینے کا تو سوال ہی نہیں ہے ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ مخالفت بھی بعینہ ویسی ہی ہے جیسی جملہ نبیوں کے وقت میں ہوتی رہی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار مرتبہ تجربہ ہو چکا ہے کہ مخالفتوں کے باوجود الہی جماعت ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی رہی ہے آج بھی یہی نظارہ دہرایا جائے گا۔پھر میں نے کہا کہ جناب معالمہ دو حال سے خالی نہیں یا تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام اپنے دعوئی ماموریت میں بچے ہیں یا معاذ اللہ جھوٹے اور مفتری ہیں۔اگر وہ بچے ہیں اور ہمیں کامل یقین ہے کہ وہ سچے ہیں تو اس مخالفت سے کچھ احمدیوں کے گھر جلائے جاسکتے ہیں، ان کی فصلیں اجاڑی جاسکتی ہیں، ان کی دکانیں لوٹی جاسکتی ہیں، ان میں سے بعض کو شہید بھی کیا جا سکتا ہے مگر یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی جاری کردہ تحریک کو مٹایا جا سکے یا اس کی قائم کردہ جماعت کو نابود کر دیا جائے اور اگر خدانخواستہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مفتری اور جھوٹے تھے جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو پھر آپ کو ان کی جماعت سے کیا ہمدردی ہے اگر ایسی جماعت نے کل ہلاک ہونا ہے تو آج اسے ہلاک کر دینا اچھا ہے اس لئے آپ کے پیغام دینے کا عقلا بھی کوئی سوال نہیں ہے۔اس مرحلہ پر گفتگو دیگر مذہبی و سیاسی مسائل کے متعلق جاری ہوگئی اور خاکسار کے علاوہ محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب اور محترم جناب مولا نائس صاحب مرحوم بھی گفتگو فرماتے رہے۔اس گفتگو میں مسلمان کی تعریف اور جماعت کے خلاف ہنگامہ آرائی کا جواز بھی زیر بحث آیا۔