حیاتِ خالد — Page 331
حیات خالد 330 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام جذبات اختر حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کی بلا د عر بیہ سے واپسی پر مولانا غلام احمد صاحب اختر آف اُوچ ریاست بہاولپور نے حسب ذیل فارسی نظم کی صورت میں الفضل قادیان ۱۹۳۶ء میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔آنکه لعل از سنگ و گوهر را ز شور آب آورد چوب تر از خاک هم از چوب اعناب آورد وہ (خدا) جس نے پتھر سے لعل اور کھاری پانی سے گوہر پیدا کئے۔اُسی نے مٹی سے لکڑی (پودے ) اُگائی اور ای ( لکڑی) سے انگور بھی پیدا کیے۔باشب تاریک خورشید جہاں تاب آورد خور چو غائب گشت گشت پیر خلق مهتاب آورد اور تاریک رات سے جہاں کو روشن کرنے والا سورج نکالا جو نہی سورج غروب ہو ا ( تو وہ ) مخلوق کے لئے ( چودہویں کا ) چاند نکال لایا شگفاند در ور پہار از خار ہا گلہائے تر ہم ز تاکستان مواد باده نار باده تاب آورد اس نے موسم بہار میں کانٹوں میں سے تازہ پھول کھلائے اور انگوروں کے باغ سے خالص (مصلی ) شراب کا سامان کیا۔از فشار روث و خون خون بر آرد شیر نار نیز او بار از نبات لذ بهر اثواب آورد اس نے گوبر اور خوں کے درمیان سے مصفی دودھ نکالا روئیدگی کی کثرت کی وجہ سے خستہ حال لوگوں کے لئے آسائش کے سامان کئے۔