حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 317 of 923

حیاتِ خالد — Page 317

حیات خالد 316 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام ہندوستان سے روانگی کا فیصلہ ہوا اس وقت ان کے حالات اس قسم کے تھے کہ اگر سلسلہ کی تبلیغ کا سوال ان کے سامنے نہ ہوتا اور کسی دنیوی منفعت کیلئے ان کو بھیجا جاتا تو شاید وہ کبھی پسند نہ کرتے کہ وہ ہندوستان سے باہر قدم رکھیں۔ان کے والد صاحب کی وفات پر ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا جس کی وجہ سے امور خانگی کا تمام بوجھ ان پر آپڑا تھا۔ان کے بھائی کم عمر اور مدرسوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ان کی والدہ بوڑھی اور صدمہ رسیدہ عورت تھیں۔والدہ کی دلداری بھائیوں کے مستقبل کا سوال کوئی معمولی سوال نہ تھا۔ان کے اندرونی حالات اس پر ختم نہیں ہو جاتے بلکہ ان کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھیں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی پرورش کا سارا بار ان پر آن پڑا تھا۔اس کے ساتھ ہی ان کی روانگی سے غالباً ایک ماہ ہی قبل انہوں نے جدید شادی کی تھی اور جدید شادی کے ساتھ ایک خاوند پر جس قدر ذمہ داریاں آپڑتی ہیں وہ ظاہر ہیں مگر مولوی صاحب کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ جب خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کیلئے ان کا انتخاب کیا گیا تو انہوں نے اپنے عمل سے یہ کہدیا سپردم بتو مایه خویش را بیش را تو دانی حساب کم اس طرح اپنے جذبات، احساسات، خیالات، تفکرات ان سب کی قربانی کرتے ہوئے اپنی بوڑھی والدہ، کم عمر بھائی، ننھے بچے اور نئی دلہن کو چھوڑ کر خدا تعالی کے لئے اپنے ملک کو خیر باد کہ دیا۔کہنے کو یہ بہت آسان بات ہے مگر جو لوگ غربت کی تکالیف سے آشنا ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک لمبے عرصے کے لئے اپنے عزیز واقارب کو خدا حافظ کہہ کر کسی دوسرے ملک میں چلے جانا کس قدر مشکل امر ہے۔انسانی خیالات کا ایک بحر بیکراں اس کے دماغ میں موجیں مارتا ہے اور اسے ایک بہت بڑی جد و جہد اس طوفان سے نکلنے کیلئے کرنی پڑتی ہے۔اس کی آنکھوں میں گھر کی ایک ایک چیز اور کنبہ کا ایک ایک فرد سمایا رہتا ہے۔اور وہ ان کے تصور میں غرق رہتا ہے۔عزیز و اقارب اور اپنی مالوفات کی یاد سے کئی دفعہ غمناک اور المناک بنا جاتی ہے۔ان تمام حالات پر قابو پانے کے لئے بہت بڑے دل گردہ کی ضرورت ہوتی ہے۔پس میں مولوی صاحب کی اور ان کے ساتھ ہر ایک مبلغ کی یہ بہت بڑی قربانی خیال کرتا ہوں کہ وہ اپنے عزیز واقارب اور اپنے وطن کو چھوڑ کر ایک ایسے ملک کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔جہاں نہ ان کا کوئی بار نہ مددگار ہوتا ہے۔مولوی صاحب عراق و عرب کے راستے فلسطین میں داخل ہوئے۔