حیاتِ خالد — Page 239
حیات خالد 245 مناظرات کے میدان میں جس کا اثر اس محفل پر ایسا پڑا کہ آج تک یاد کیا جاتا ہے۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ حضرت مولانا نے پہینچ دیگر یہ بات کہی کہ ہم قرآن مجید کی تمہیں آیات سے وفات عیسی علیہ السلام ثابت کریں گے۔اس کے مقابل پر آپ صرف ایک آیت قرآنی قرآن مجید سے نکال کر دکھا دیں جس سے حیات عیسی علیہ السلام ثابت ہو۔ہم مطلوبہ انعام دینے کو تیار ہیں۔مگر مفتی صاحب لا جواب رہے۔مولا کریم حضرت مولانا صاحب کے درجات بلند کرے۔آمین محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب موضع بھٹیاں میں غیر احمدیوں سے تبادلہ خیال لائل پوری تحریر فرماتے ہیں:۔میاں عبد الحق صاحب ساکن موضع بھٹیاں نے جب اپنے گاؤں میں تبلیغ پر زور دیا تو گاؤں کے لوگوں نے اپنے علماء سے تبادلہ خیالات کرانا چاہا اور مولوی عبداللہ صاحب امرتسری اور مولوی عقیق الرحمن مرتد کو بلا لیا۔میاں عبد الحق صاحب کے بلانے پر 19 اپریل ۱۹۴۰ء کی صبح کو خاکسار قاضی محمد نذیر صاحب لاکپوری، مولوی ابوالعطاء صاحب، گیانی واحد حسین صاحب، ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب اور مولوی دل محمد صاحب موضع بھٹیاں پہنچے ہمارے سامنے ماسٹر محمد صادق صاحب ساکن بھٹیاں نے کہا میاں عبدالحق صاحب سے تبادلہ خیالات مقرر ہے۔ہاں ان کی مدد کے لئے ان کے علاوہ کوئی احمدی عالم بھی ان کے سوال کی وضاحت کر سکتا ہے۔اس کے بعد جب ہم لوگ جلسہ گاہ میں پہنچے تو ماسٹر محمد صادق صاحب اپنی بات پر قائم نہ رہے اور کہا ہم جماعت احمدیہ کے کسی عالم کو بولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔صرف میاں عبد الحق صاحب سوالات کر سکتے ہیں۔ہاں آپ کا کوئی عالم میاں عبد الحق کو یہ بتا سکتا ہے کہ وہ کیا کہیں۔اس پر میاں عبد الحق صاحب کو ہی تبادلہ خیالات کرنا پڑا اور انہوں نے وفات مسیح کے مسئلہ پر مولوی عبداللہ صاحب سے نہایت معقول سوالات کئے جن کا ان سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔میاں عبد الحق صاحب نے وَ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا أَمَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كنت أنت الرقيب عَلَيْهِمْ کی تغییر پیش کرتے ہوئے کہا کہ توفی کے فعل کا فاعل جب خدا ہوا اور ذی روح مفعول ہو تو اس کے معنی صرف موت یا نیند کے ہوتے ہیں۔جسم کے آسمان پر اٹھا لینے کے معنوں میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔اگر میری یہ بات غلط ہو تو مولوی عبد الله صاحب قرآن و حدیث یا ادب عربی سے کوئی مثال اس قاعدہ کے خلاف پیش کریں۔نیز اس کے ساتھ ہی انہوں نے بخاری کتاب التفسیر کی وہ حدیث پیش کی جو امام بخاری رحمہ اللہ علیہ آیت مندرجہ بالا کی تفسیر میں لائے ہیں