حیاتِ خالد — Page 191
حیات خالد 197 مناظرات کے میدان میں ایک دوسرے کے حوالے کل یعنی ۲۳ / مارچ ۱۹۳۶ ء بوقت ۹ بجے تک کر دی جائے گی۔(۴) میعاد مباہلہ ایک سال ہوگی۔(۵) اگر سال کے اندر فریقین میں سے کسی فریق پر عذاب عبرت ناک یا مرض عبرتناک مثلا فالج، لقو و سکته و غیره یا عبرت ناک رسوائی یا موت وارد ہو جائے تو وہ فریق اور اس کا مذہب و سلسلہ جھوٹا تصور ہوگا اور اگر ہر دو فریق مذکورہ بالا عذاب و امراض وغیرہ مذکورہ بالا سے محفوظ رہیں تب بھی احمدی جھوٹے تصور ہوں گے اور ان کا سلسلہ و مذہب جھوٹا تصور ہوگا۔اگر فریقین پر عذاب پڑے تو کثرت کا اعتبار کیا جائے گا۔( عذاب اور امراض سے وہ عذاب اور امراض مراد ہیں جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہوں ) (1) امن کی ذمہ داری جماعت احمدیہ کی طرف سے سردار امیر محمد خان صاحب سر براہ تمندار کے ذمے ہوگی اور اہلسنت والجماعت کے لوگوں کی طرف سے امن کی ذمہ داری بذمہ خان سردار خان صاحب تگوانی ہوگی۔(۷) اتمام حجت کیلئے بموجب شرط نمبر ۲ جو تبادلہ خیال و مناظرہ ہوگا اس کا صدر سردار امیر محمد خان صاحب قیصرانی و خان صاحب سردار خان تگوانی صاحب ہوں گے۔(۸) دعائے مباہلہ کیلئے ذیل کے الفاظ معین کئے جاتے ہیں۔الفاظ دعائے مباہلہ منجانب مباہلین اہلسنت والجماعت یا اللہ قہاری و جلالت کے مالک ، عدل وانصاف کرنے والے قادر کہ تو علیم وخبیر ہے۔ہم تجھے حاضر و ناظر جان کر اور تیرے جلال کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمام امکانات سے حقیق کر کے جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کی توہین کی ہے اور نبوت حقیقیہ کا دعوی کیا ہے۔بعثت جسمانی کا انکاری ہے اور معجزات انبیاء کا منکر ہے۔مہدی موعود و مسیح موعود ہونے کا مدعی ہے۔ہمارے یقین میں یہ سب دعوئی اس کے جھوٹے اور باطل ہیں اور وہ کافرو کاذب و مفتری علی اللہ اور گمراہ ہے۔اگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مذکورہ بالا دعاوی یعنی دعوی نبوت حقیقیہ و موعودہ مہدویت و مسیحیت میں صادق ہے تو ہم کو عبرت ناک عذاب یا عبرت ناک مرض مثلاً فالج، لقوہ، سکته ی حقیقی رسوائی یا موت سے معذب فرما۔تا کہ