حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 190 of 923

حیاتِ خالد — Page 190

حیات خالد 196 مناظرات کے میدان میں میں حاضرین کی تعداد کا اندازہ تین ہزار کے قریب لگایا گیا ہے۔(الفضل ۲ / جولائی ۱۹۳۱ء ) ۱۸؍ جولائی (۱۹۳۱ء) بھینی میاں بھینی میاں خان میں پادری عبدالحق سے مباحثہ خان مضافات قادیان میں پادری عبدالحق صاحب کے ساتھ مولوی اللہ دتا صاحب نے مسئلہ کفارہ پر مناظرہ کیا جس میں احمدی مناظر کو خدا کے فضل سے نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔الفضل ۳۱ جولائی ۱۹۳۱ منتحرا کالم نمبر از عنوان در سی امی، جلد ۱۹ نمبر ) ڈیرہ غازیخان میں ہونے والے مناظرہ اور مباہلہ کا طویل تذکرہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے الفضل میں شائع کرایا جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تو نہ ضلع ڈیرہ غازیخان سے چند ہیر و شرقی ضلع ڈیرہ غازیخان میں مناظرہ ومباہلہ میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں بیر و شرقی نامی موجود ہے۔اس گاؤں میں ایک غریب مگر مخلص اور جوشیلا احمدی ہے۔گردو نواح کے احمدی بھی اپنے اپنے حلقہ اثر میں تبلیغ میں کوشاں رہتے ہیں۔حال میں غیر احمدیوں کی طرف سے محمد اجمل خان صاحب لمغانی نے مکرم سردار امیر محمد خان صاحب کوٹ قیصرانی کو لکھا۔ہم حق اور باطل کا فرق نکالنے کی خاطر بموجب حکم خدائے عز وجل آپ لوگوں کے ساتھ مباہلہ کرنے کے واسطے مباہلہ کی دعوت دیتے ہیں۔وقت کا ، جگہ کا تعین کر کے جلد از جلد مطلع کیا جائے اور بہتر ہوگا کہ مباہلہ ہیر و شرقی کی مسجد میں کیا جائے“۔اس دعوت مباہلہ کو جماعت احمدیہ کی طرف سے منظور کر لیا گیا اور دونوں فریق کے آدمیوں نے مل کر انعقاد مباہلہ کیلئے مندرجہ ذیل شرائط کا تصفیہ کیا جن کی ایک ایک نقل فریقین کے دستخطوں سے ایک دوسرے کو دی گئی۔(۱) مباہلہ ۲۶ اپریل ۱۹۳۶ء کو بمقام ہیر وشرقی میں ہوگا۔(۲) بعد نماز فجر ۸ بجے صبح تا ۴ بجے شام۔اتمام حجت کیلئے مابین فریقین بذریعہ علماء زبانی تقاریر کے ساتھ تبادلہ خیالات ہوگا۔ہر ایک مقرر کیلئے آدھ گھنٹہ وقت ہوگا۔پہلی تقریر جماعت احمدیہ کی طرف سے ہوگی اور آخری یعنی اختتامی تقریر اہلسنت والجماعت کی طرف سے ہوگی۔(۳) مباہلین کی تعداد ہر فریق کی طرف سے دس دس نفر کی ہوگی اور نامزد ہو کر ہمرضی فریقین فہرست