حیاتِ خالد — Page 187
حیات خالد 193 مناظرات کے میدان میں دعوت امام جماعت احمد یہ یا ان کے نمائندہ کو دی ہے اگر کسی کے پاس سند نیابت ہے تو پیش کریں۔خاکسار نے پہنچتے ہی حضور کی عطا فرمودہ سند پیش کر دی۔اسے دیکھ کر احراری مولوی کہنے لگے کہ ہم گھر پر جا کر مشورہ کر کے جواب دیں گے مگر پھر وہ آخری وقت تک عاجز ولا جواب ہی رہے۔در حقیقت یہ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی روحانی توجہ کا اثر تھا۔(الفرقان فضل عمر نمبر : صفه ه۲۴، ۲۵: شماره دسمبر ۱۹۶۶۷۶۶۵ء جنوری) ۲۷ سال کی عمر میں حضرت مصلح موعود سے سند نیابت حاصل کرنا بلا شبہ ایک میں بے قابو ہو گیا غیر معمولی اور تاریخ ساز اعزاز ہے اس کا صحیح اور جذباتی رنگ میں اور اک حضرت مولانا نے حیاۃ ابی العطاء کے ایک باب ، انعامات الہیہ کا کچھ تذکرہ کے زیر عنوان فرمایا۔اس تحریر میں حضرت مولانا صاحب کی قلم کاری کا لطف بھی ہے اور اس اعزاز پر حقیقی رنگ میں جذ بہ تشکر بھی۔ساتھ ہی ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ کتنا غیر معمولی اور کتنا نا در اعزاز تھا جو حضرت مولانا کو حاصل ہوا۔زہے نصیب ! آپ لکھتے ہیں۔پرائمری کی تعلیم کے بعد اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوا۔اس میں حضرت والد صاحب کی ایمانی قوت کے علاوہ میرے ماموں جان حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب کی تحریک کا بھی خاصہ دخل تھا۔ان دنوں وہ فرانس میں فوج میں کام کر رہے تھے۔قادیان کے عرصہ تعلیم میں جو نیک بزرگ ہمدرد اور محبت الہی میں فنا اساتذہ میسر آئے وہ اللہ تعالی کا اتنا عظیم احسان تھا جس کا شکر ادا کر نا طاقت سے باہر ہے۔میں نہیں جانتا کہ میرے اساتذہ اور مدرسہ احمدیہ کے اس وقت کے افسرسیدی حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کے دل میں میرے متعلق کس طرح حسن ظن پیدا ہو گیا کہ ہوتے ہوتے بات ہمارے پیارے امام حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک جا پہنچی۔یہاں تک کہ میں ان سب مقدسوں کے الطاف کریمانہ اور روحانی تو جہات کا مورد بن گیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے زمانہ طالب علمی میں ہی اسلام و احمدیت کی تقریری اور تحریری خدمات کی سعادت حاصل ہونی شروع ہوگئی۔قارئین ذرا خیال تو فرما ئیں کہ ۱۹۳۱ء کے اوائل میں (یعنی با قاعدہ مبلغ بننے کے چوتھے سال ) یہاں تک اللہ کا فضل ہوا کہ ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مجھے سند نیابت عطا فرمائی کہ اس کی فتح میری فتح اور اس کی شکست میری شکست ہوگی۔مجھے یاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر حضور رضی اللہ عنہ نے مسجد مبارک قادیان کے ابتدائی حصہ میں تشریف فرما ہو کر