حیاتِ خالد — Page 186
حیات خالد 192 مناظرات کے میدان میں ملا اور بٹالہ جانے کی اجازت طلب کی۔نظارت دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے بعض علماء پہلے بھی پہنچ چکے تھے۔حضور خاکسار سے باتیں کرتے کرتے مسجد مبارک تک پہنچ گئے۔اس وقت اچانک فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ میں آپ کو سند لکھ دوں۔میں حضور کے ساتھ مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے اوپر چڑھ گیا۔جناب شیخ یوسف علی صاحب بی اے مرحوم ان دنوں پرائیویٹ سیکرٹری تھے وہ بھی ہمراہ تھے۔حضور نے قلم اور کاغذ منگوایا اور مسجد مبارک کے اولین حصہ میں کھڑکی کے پاس بیٹھ کر دعا کرتے ہوئے سند تحریر فرمائی اور مجھے فرمایا کہ پڑھ لوٹھیک ہے؟ میں غرق حیرت تھا اور اس ذمہ داری کے پیش نظر گھبرایا ہوا تھا۔عرض کیا حضور ٹھیک ہے۔سند کے الفاظ حسب ذیل تھے :- وو میں مولوی اللہ دتا صاحب کو اس صورت میں اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں کہ اگر بٹالہ یا اور کسی مقام پر انجمن شباب المسلمین یا اور کسی انجمن کی طرف سے کوئی عالم جسے آل انڈیا انجمن اہلحدیث یا جمعیتہ العلماء ہند دہلی یا مدرسہ دیو بند کی طرف سے سند وکالت و نیابت حاصل ہو تو وہ اس کے ساتھ میری طرف سے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے مباحثہ کریں اور ان کا ساختہ پر داختہ کلی طور پر میری طرف سے سمجھا جائے گا لیکن اگر فریق مخالف ایسی کوئی سند پیش کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو اس صورت میں ان کا مباحثہ صرف قادیان یا بٹالہ کی انجمن احمدیہ کی طرف سے سمجھا جائے گا نہ کہ جماعت احمد یہ کی مجموعی تعداد کی طرف سے۔خاکسار مرزا محموداحمد خلیفه امسیح الثانی الفضل ۲۷ جون ۱۹۳۱ء ) میں جب گاڑی سے بٹالہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ ریڈیڈنٹ مجسٹریٹ صاحب کی کوٹھی پر فریقین کے علماء جمع ہیں۔میں وہاں پہنچا تو مجسٹریٹ صاحب کہہ رہے تھے کہ اشتہار کے رو سے احرار نے مناظرہ کی