حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 173 of 923

حیاتِ خالد — Page 173

حیات خالد 179 مناظرات کے میدان میں روحانی مراد ہے نہ کہ جسمانی۔لیکن غیر احمدی مولوی نے اس پر اپنی دوسری تقریر میں یہ واویلا شروع کیا کہ احمدی مولوی نے جب خود تسلیم کر لیا ہے کہ رقعہ اللہ میں " " کی تعمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے تو بس حیات حضرت عیسی علیہ السلام ثابت۔یہ کہہ کر غیر احمدی مولوی نے اپنی کتابیں باندھنا اور گریز کرنا شروع کیا۔مولوی اللہ دتا صاحب نے تقریر شروع کی تو مخالفین نے بے ہودہ حرکات شروع کر دیں۔دوسرے دن کا مناظرہ اسلام اور حضرت مرزا صاحب پر تھا۔ہماری طرف سے مولوی عبدالغفور صاحب مولوی فاضل اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی سلطان محمود صاحب تھے۔مولوی عبدالغفور صاحب نے از روئے قرآن و احادیث نیز حضور کی کتب اور عمل سے آپ کے مسلمان ہونے کا ثبوت دیا۔لیکن مخالف مولوی صاحب نے اپنا سارا وقت حضرت اقدس کے بعض الہامات اور پیشگوئیوں پر استہزاء اور۔66 ٹھٹھا کرنے میں ضائع کیا۔ہندو مسلمانوں میں سے سمجھدار لوگ تاڑ گئے کہ حق کس کے ساتھ ہے۔تیسرے روز ہماری طرف سے مولوی اللہ دتا صاحب فاضل اور غیر احمدیوں کی جانب سے مولوی غلام رسول صاحب المعروف محدث پیش ہوئے۔مضمون مناظرہ ختم نبوت“ تھا۔مولوی غلام رسول صاحب نے ختم نبوت کے مضمون پر قرآن کریم سے صرف آیت خاتم النبیین اور دو تین احادیث اپنی تائید میں پیش کیں۔فاضل جالندھری نے آیت خاتم النبیین کا اصلی اور صحیح مفہوم اور تشریح بیان کر کے کہا کہ یہ آیت تو مقام مدح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے اور بتلایا کہ از روئے اصول مناظرہ فریق ثانی آیت خاتم النبیین کو جو تنازعہ فیہ آیت ہے بطور اثبات دعوئی پیش نہیں کر سکتا۔نیز ایک درجن آیات قرآنی اور چند اہم احادیث صحیحہ اور زمانہ سلف کے کئی بزرگ مسلمانوں کے اقوال اپنی تائید میں پیش کئے۔غیر احمدی مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض تحریرات سے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ گویا حضرت اقدس کے نزدیک ہر قسم کی نبوت بند ہو چکی ہے۔لیکن حضرت صاحب کی تصانیف سے اس بات کا تسلی بخش جواب دیا گیا۔غیر احمدی اور نیز غیر مسلم حاضرین بخوبی مد مقابل کے دلائل کی کمزوری کو محسوس کر رہے تھے۔تیسرے روز بعد دو پہر صداقت حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کے موضوع پر مناظرہ مابین مولوی اللہ دتا صاحب فاضل اور مولوی سلطان محمود صاحب ہوا۔پہلی تقریر مولوی اللہ دتا صاحب نے کی۔قرآن مجید سے کئی معیار صداقت پیش کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان معیاروں پر پورا اتر تا ہوا ثابت