حیاتِ خالد — Page 172
حیات خالد 178 مناظرات کے میدان میں مناظرہ بٹالہ گئے تھے۔۱۵/ نومبر بٹالہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ مولوی اللہ دتا صاحب مولوی فاضل کا بہت کامیاب مناظرہ ہوا۔قادیان سے بہت سے لوگ مناظرہ سننے کیلئے (الفضل ۱۸/ نومبر ۱۹۳۰ ء صفحه ۱ ) مباحثه رندھیر منگل ضلع سیالکوٹ و جتوئی ضلع مظفر گڑھ مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری، مولوی محمد یار صاحب اور مولوی عبد الرحمن صاحب بو تالوی رندھیر منگل ضلع سیالکوٹ میں کامیاب مناظرہ کرنے کے بعد واپس آئے اور ۹ / جولائی کو مولوی اللہ دتا صاحب قادیان سے اور مولوی عبدالغفور صاحب علاقہ لائل پور سے جتوئی ضلع مظفر گڑھ میں مناظرہ کیلئے بھیجے گئے۔الفضل ار جولائی ۱۹۳۰ صلحا کالم نمیرا زیر عنوان هدیه امسیح جلد ۱۸ نمبر۵) اس مناظرہ کی جو رو داد مکرم ملک عزیز محمد صاحب احمدی پلیڈر نے الفضل میں شائع کروائی وہ ذیل میں درج ہے۔ہمارے ایک نوجوان دوست مہر اللہ قصبہ جتوئی ضلع مظفر گڑھ میں کامیاب مناظرہ یار صاحب نے جو ایک معزز زمیندار اور ٹھیکہ دار ہیں پانچ چھ سال تک پیغامی رہنے کے بعد گزشتہ مئی میں جب حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دست مبارک پر بیعت کی تو گردو نواح میں مخالفت کا ایک شور برپا ہو گیا۔حتی کہ مولوی سلطان محمود اور کرم علی شاہ نے ہمیں مناظرہ کا چیلنج دیا جو ہم کو منظور کرنا پڑا۔مناظر و ۱۱ تا ۱۳ جولائی ہوتا رہا۔ہماری طرف سے مولوی اللہ دتا صاحب فاضل جالندھری اور مولوی عبدالغفور صاحب تھے۔پہلے دن وفات حضرت عیسی علیہ السلام پر مناظرہ ہوا جو ساڑھے تین گھنٹے ہونا تھا لیکن غیر احمدی مناظر کے فرار کیوجہ سے پچیس منٹ کے اندر ختم ہو گیا۔مختصر کیفیت اس مناظرہ کی یہ ہے کہ غیر احمدی مولوی نے وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کو پیش کیا اور دَفَعَهُ الله میں کی ضمیر کا " مرجع حضرت عیسی علیہ السلام کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے حضرت مسیح کا بہ جسد عصری آسمان پر جانا ثابت ہوتا ہے۔فاضل جالندھری نے اپنی جوابی تقریر میں حضرت مسیح کی وفات کے ثبوت میں متعدد آیات قرآنی و احادیث نبوی ﷺ پیش کیں اور بتلایا کہ اگر چہ ” کی ضمیر حضرت مسیح کی طرف ہے مگر اس میں رفع صلى الله