حیاتِ خالد — Page 152
حیات خالد 158 مناظرات کے میدان میں ان کے مکان پر گئے مگر انہوں نے تصفیہ شرائط کیلئے نمائندہ بھیجنے سے صریح انکار کر دیا۔ہم جھوٹے کو گھر ++ تک پہنچانے کیلئے ان کے مکان پر چلے گئے پہلے تو دو تین گھنٹے اس بحث میں ضائع کر دیئے کہ ہمارا چیلنج صرف مولوی محمد اسماعیل صاحب کی ذات کیلئے ہے۔میں نے کہا کہ یہ بات لکھ دو کہ اس چینج میں فریق قادیان کو چیلنج نہیں اگر چہ علماء قادیان بلکہ خلیفہ جماعت کے نام موجود ہیں۔ایسا لکھنے کیلئے وہ تیار نہ ہو سکے۔بہت کچھ ردو قدح کے بعد آخر قہر درویش بر جان درویش انہیں مناظرہ منظور کرنا پڑا۔مگر میر مدثر شاہ صاحب نے ہر سادہ شرط میں اس قدر الجھن ڈالنی شروع کی کہ اگر ہم قطعی فیصلہ نہ کر چکے ہوتے کہ مناظرہ کر کے ہی رہیں گے تو مناظرہ کی کوئی صورت نہ تھی۔میر صاحب ہر قدم پر پکار اٹھتے جاؤ ہم تم سے مناظرہ نہیں کرتے مگر قصہ کوتاہ رات کے بارہ بجے کے قریب تصفیہ ہوا اور ۱۲ ۱۳؍ ستمبر تاریخ ہائے مناظرہ مقرر ہوئیں۔۱۲؍ ستمبر ساڑھے چار بجے شام مناظرہ شروع ہوا۔اہل پیغام نے مرزا پیغامیوں کی کذب بیانی مظفر بیگ صاحب کوصدر بنایا اور ہماری طرف سے مرزا عبدالق صاحب وکیل صدر تھے۔پہلی تقریر نصف گھنٹہ تک میری تھی جس میں میں نے بارہ آیات پیش کیں جن سے اجرائے نبوت ثابت تھی۔شرائکہ میں یہ بات قرار پا چکی تھی کہ :- اگر کسی آیت کے معنی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمائے ہوں تو وہ مسلمہ فریقین ہوں گے اور بطور تشریح پیش کئے جائیں گے“۔وو اس لئے میں نے اپنی تائیدی آیات کے معنی ( از تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) پیش کئے جن میں حضور نے ان آیات سے آئندہ نبی کے آنے کے امکان کا ذکر فرمایا ہے۔پیغامی نامہ نگار کے یہ الفاظ نہایت ہی بددیانتی پر محمول ہیں :- جناب میر صاحب نے اصولی رنگ میں توجہ دلائی کہ آپ کی پیش کردہ آیات کا اگر یہ ہی مطلب ہے جو آپ پیش کر رہے ہیں تو پھر حضرت مرزا صاحب کیوں اس کے خلاف لکھ رہے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ حضرت مرزا صاحب کے نزدیک ان آیات کا مطلب یہ نہیں جو آپ لے رہے ہیں مگر افسوس مولوی اللہ دتا صاحب اصل بات کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی باتیں درمیان میں گھسیٹ لاتے تھے اور اصل بات کی طرف توجہ نہ دیتے تھے۔(۳۰ ستمبر ) حالانکہ میں نے اپنی ابتدائی تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودہ معانی میں سے