حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 145 of 923

حیاتِ خالد — Page 145

حیات خالد 151 مناظرات کے میدان میں عبارتیں پڑھ کر سنائیں۔ڈاکٹر صاحب خود جانتے ہیں کہ ان کی کیا حالت ہوئی۔منافقت کا پردہ چاک ہو گیا۔چہرہ زرد پڑ گیا۔گھبرا کر فرمانے لگے ”لوگو! تم کو خالہ نہی پیدا ہو گئی ہے غیر احمد یوں نے جواب دیا جناب اُردو عبارت ہے اور نہایت واضح ہے۔اسی حالت بے بسی میں آپ نے اہل قادیان پر تمرا بازی بھی شروع کر دی۔جب ذرا ٹھنڈے ہوئے تو کہنے لگے عام غیر احمدی کا فرنہیں ہاں جاہلیت کی موت ضرور مرتے ہیں۔مگر نہ ماننے والے اور کافر کہنے والے ایک ہی قسم میں داخل ہیں" کا حل نہ کر سکے۔اسی اثناء میں آواز میں آنے لگیں کہ پیغامی مناظر نے حضرت مسیح موعود کی ہتک کی لاہوری لوگ یا قادیانیوں کے ساتھ مل جائیں جو مرزا صاحب کی تعلیم پر قائم ہیں یا پھر ہمارے ساتھ مل جائیں درمیان درمیان کی حالت ٹھیک نہیں۔چنانچہ اسی کا نتیجہ تھا کہ دوسرے روز آپ نے بار بار حضرت مسیح موعود کی توہین کی اور مرزا مرزا کے خطاب کے علاوہ یہاں تک کہہ دیا کہ ”مرزا صاحب صحابہ کی جوتیوں کے برابر بھی نہ تھے“ نعوذ باللہ۔جس پر غیر احمد یوں کو خوشی کا موقعہ مل گیا اور انہوں نے کہا آپ تو ہمارے ساتھ مل گئے۔اب جمعہ بھی ہمارے پیچھے پڑھیں۔مگر ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ، اور کھانے کے اور ہوتے ہیں۔آپ نے عملاً اس کا انکار کر دیا۔۲۴ / اگست بروز ہفتہ اس مضمون کیلئے تین گھنٹہ وقت اجرائے نبوت غیر تشریعی پر مباحثہ مقرر تھا۔ساڑھے آٹھ بجے رات مباحثہ شروع ہوا۔نصف گھنٹہ میری تقریر تھی جس میں خاتم النعین کے معنے بتا کر امکان نبوت پر آٹھ آیات اور تین احادیث پیش کیں۔میں نے کہا (۱) خاتم النبین مقام مدح میں ہے۔اس کے وہ ملنے کرنے چاہئیں جو حضور علیہ السلام کی مرتبت کو بلند ظاہر کریں۔نبوت کو بند کر دینے سے حضور کا کیا فخر ہے۔زمانی طور پر آخری ہونا باعث فضیلت نہیں۔اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تا خرزمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے“۔( تحذیر الناس : صفحه ۳) (۲) دیگر آیات سے جن معنوں کی تائید نکلتی ہو وہ درست ہوں گے۔اس پر میں ن وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ۔۔۔۔الخ اور دیگر سات آیات سے امکان نبوت غیر تشریعی ثابت کیا۔(۳) احادیث میں سے لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صديقًا نَبِيًّا اگر میرا یہ بیٹا زندہ رہتا تو نبی ہو جاتا۔نیز یہ ارشاد أَنَا سَيِّدُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ مِنَ