حیاتِ خالد — Page 144
حیات خالد معنی نہ ہوا۔150 مناظرات کے میدان میں پھر لطف ہے کہ رپورٹ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فریق ثانی کا مناظر شاید بالکل خاموش تھا۔ان متذکرہ صدر ر پورٹوں کی یہی نوعیت ہے۔۲۳ اگست بعد نماز جمعہ ہم میاں محمد یعقوب صاحب شال مرچنٹ کے مکان پران مباحثہ کوہ مری کی تحر کے مطابق تصفیہ شرائط کیلئے گئے۔میاں صاحب موصوف غیر احمدی ہیں اور انہوں نے اخبار ”زمیندار“ میں صداقت دعویٰ نبوت حضرت مسیح موعود کیلئے جماعت احمد یہ کوہ مری کو چیلنج کیا تھا جسے ڈاکٹر محمد حسین صاحب پیغامی کی کذب آفریں طبیعت نے میاں محمود احمد صاحب کو چیلنج ، ، تحریر کیا ہے۔میاں صاحب مذکور نے غیر احمدی مولوی صاحبان کو تار دیئے مگر وہ نہ پہنچے تو آپ نے مجبوراً ڈاکٹر صاحب کو ہی تحریری طور پر اپنا نمائندہ مقرر کر دیا اور اس طرح صداقت مسیح موعود کا مضمون حذف کر دیا گیا۔اب پیغامی مناظر نے ایک تو اپنے چیلنج کو نبھانا تھا۔دوسرے غیر احمدی اصحاب کی نمائندگی بھی کرنی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے مبلغ علم کا جائزہ کر کے اشتعال پیدا کرتے ہوئے مباحثہ سے جان بچانے کی کوشش کی۔مگر ہم نے جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا تھا اس لئے ان کی تمام سعی اکارت گئی۔پیغامی مناظر کی سراسیمگی تصفیہ شرائط کیلئے نصف گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ لگتا اگر ڈاکٹر صاحب ایک بات کو تسلیم کرنے کے بعد پھر اس کا انکار نہ کر دیتے۔وہ عجیب منظر تھا کہ جب ڈاکٹر صاحب ایک شرط مان جاتے اور میں اسے لکھ بھی دیتا لیکن ان کے ساتھ والے ایک دو پیغامی سر ہلا کر فرما دیتے نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب پھر کہہ دیتے مجھے یہ منظور نہیں۔بعد مشکل ہم نے ساڑھے تین گھنٹہ کے بعد ان کو دو مضمونوں پر رضامند کیا جو یکے بعد دیگرے تھے۔(۱) اجرائے نبوت غیر تشریعی (۲) دعوی نبوت حضرت مسیح موعود از تحریرات۔وہ اخیر تک اس تلخ پیالہ کو ٹالنے کی کوشش کرتے رہے مگر کذب بیانی کا ستیا ناس ہو کہ آپ " شفاخانہ پہنچ کر اس ساری پیچیدگی" کو ہمارے ذمہ ڈالنے لگ گئے۔خود جناب نے مسئلہ کفر و اسلام کی آڑ میں بیچنا چاہا مگر جب خاکسار نے صاف لفظوں میں کہا کہ صاحبان اس بارہ میں آپ کو لاہوری گروہ یا ابل قادیان کے بجائے بانی سلسلہ احمدیہ کے وہ الفاظ پڑھ لینے چاہئیں جو حضور نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۳ تا ۱۷۹ میں لکھے ہیں۔وہ اُردو عبارت ہے۔ڈاکٹر صاحب بھی دل میں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔اس کا مطلب خود سمجھ لیجئے اور میں نے وہ