حیاتِ خالد — Page 132
حیات خالد 138 مناظرات کے میدان میں فریب میں نہیں آسکتے۔دوسرا وقت ۲ بجے سے ۶ بجے تک تھا۔غیر احمدیوں کی طرف سے حافظ محمد شفیع صاحب اور ہماری جانب سے مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری مولوی فاضل مناظر تھے۔حافظ صاحب نے وہی فرسودہ اعتراضات پیش کئے جن کے بار ہا جواب دیئے جاچکے ہیں۔احمدی مناظر نے نہایت وضاحت سے تمام اعتراضات کا قلع قمع کر دیا۔حافظ صاحب کا سب سے بڑا اعتراض محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق تھا مگر مولوی الله د تا صاحب نے اس کو بالکل عام فہم پیرایہ میں سمجھا دیا۔جس پر حافظ صاحب کو خاموشی اختیار کرنی پڑی۔مولوی صاحب نے متعدد حوالہ جات کی روشنی میں بتایا کہ اس پیشگوئی کے تین بڑے حصے ہیں۔اوّل احمد بیگ کی موت دوسرے داما واحمد بیگ مرزا سلطان محمد کی موت۔تیسرے سلطان محمد کی موت کے بعد محمدی بیگم کا نکاح۔نکاح کا ہونا سلطان محمد کی موت پر موقوف اور آخری قدم ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۸۷ او تمه صفحه ۱۳۲) خود حضرت مسیح موعود نے صاف لکھا ہے :- ایک شخص احمد بیگ نام ہے۔اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء حاشیه ) نکاح کے متعلق اعتراض اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب سلطان محمد پر موت وارد ہو چکی ہو۔اب بتلاؤ کیا احمد بیگ میعاد کے اندر مرایا نہیں ؟ وہ تو پانچویں مہینہ مر گیا گویا پہلا حصہ تم کو مسلم ہے اور تیسرا حصہ مشروط۔سوال صرف سلطان محمد کے نہ مرنے کا ہے۔جس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متعدد کتب میں موجود ہے کہ۔احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آ گیا یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجز و نیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دعا کرو پس خدا نے ان کے اس خوف اور اس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیشگوئی کے وقوع میں تا خیر ڈال دی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۹۵) پھر اس خوف کے غالب آنے کے ثبوت میں حضور نے یہاں تک تحدی فرمائی اور لکھا۔