حیاتِ خالد — Page 131
حیات خالد 137 مناظرات کے میدان میں رہے تھے اور ادھر اُدھر کی باتوں میں وقت ٹال رہے تھے۔کہ قریباً پون گھنٹہ مباحثہ کے بعد صاحب صدر نے ان کو مضمون کے اندر رہنے کی ہدایت کی۔بس پھر کیا تھا انہوں نے کہا اب میں مباحثہ نہیں کرتا یہ دوسرے صاحب کیوں بولے ہیں۔بہت سمجھایا گیا۔مگر انہوں نے نہ سمجھنا تھا نہ سمجھے بلکہ اپنے ساتھیوں کو لے کر میدان مباحثہ سے بھاگ گئے جس سے سمجھدار پبلک پر اچھا اثر ہوا۔( الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۲۸ء صفحه ۲) مختصر تذکرہ میر قاسم علی صاحب مولوی اللہ دتا صاحب اور مہانہ فضل حسین صاحب لائل پور سے واپس آگئے ہیں۔الفضل ۹ نومبر ۱۹۲۸ صفحہ نمبر کالم نبراز به عنوان هدیه امسیح جلد ۱۲ نمبر ۳۸) میر محمد اسحاق صاحب اور مولوی الله و تا صاحب ۲۱ ر نومبر کو سیالکوٹ سے واپس آگئے۔المفضل ۲۷ نومبر ۱۹۲۸، کالم نمبر صفہ نمبر از عنوان هدیه امسیح جلد نمبر ۳۳) پٹھان کوٹ میں احمدیت کی زبردست فتح انجمن نظام اسلمین پٹھان کوٹ کے جلسہ پر تقریر کرتے ہوئے مولوی کرم الدین آف بھین نے احمدیت کے خلاف نہایت بیہودہ ہرزہ سرائی کی اور جماعت احمدیہ کو مباحثہ کے لئے چیلنج کیا جس کو فوراً منظور کر لیا گیا۔شرائط کے تصفیہ میں انجمن مذکور نے بہت تشدد کیا کہ کسی طرح سے جان بچے۔آخر قهر درویش بر جان در ولیش ۲۴، ۲۵ /نومبر (۱۹۲۸ء) مباحثہ کی تاریخیں مقرر کی گئیں۔روزانہ آٹھ گھنٹہ مناظرہ قرار پایا اور مضمون صرف صداقت مسیح موعود " تھا۔گویا دونوں روز غیر احمدی مناظر بحیثیت وو معترض پیش ہوتے رہے اور احمدی مناظر جواب دیتے رہے۔باوجودیکہ شرائگا نہایت کڑی تھیں جس کا اقرار خود مولوی ثناء اللہ صاحب نے بھی کیا۔مگر اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے دونوں روز احمدیت کو کھلا غلبہ عطا فرمایا اور معاند دشمن بھی احمدیت کے دلائل کا لوہا مان گئے۔الحمد للہ ۲۴ نومبر کو پہلے مباحثہ میں جو ۸ بجے سے ۱۲ بجے دن تک تھا ہماری طرف سے جناب مولوی غلام رسول صاحب فاضل راجیکی اور فریق مخالف کی طرف سے مولوی کرم الدین صاحب بھین مناظر تھے۔ہمارے فاضل مناظر نے خدا کے فضل سے ہر ایک اعتراض کا تسلی بخش جواب دیا۔مولوی کرم الدین صاحب کی بے بھی اسی سے صاف عیاں تھی کہ بار بار مدلل جواب پانے کے باوجود انہی اعتراضوں کو رہتے جاتے تھے۔وفات مسیح کے ضمنی ذکر پر مولوی کرم الدین صاحب نے کہا ہم اب آپ کے