حیاتِ خالد — Page 126
حیات خالد 132 مناظرات کے میدان میں احمدی: اس کے کئی جواب ہیں۔اوّل: مثیل کے لئے ہر بات میں مماثلت ضروری نہیں۔زید کو شیر کہنے سے اس کے پنجے اور دم کا ہونا لازم نہیں آتا۔مماثلت کام کی نوعیت، مدارج ، زمانہ وغیرہ کے لحاظ سے ہے نہ کہ شادی شدہ اور مجرد ہونے کے اعتبار سے۔: دوم پہلا صیح بقول آپ کے خدایا خدا کا بیٹا تھا وہ تو مجرد رہنے کے لئے معذور تھا کیونکہ نعوذ باللہ کوئی خدا کی بیٹی ہوتی تب ہی وہ شادی کر سکتا تھا ورنہ خدا کے بیٹے اور انسان کی بیٹی کا کیا جوڑ ؟ سوم حضرت مسیح کی ولادت پر یہودی معترض تھے اس لئے یہود میں سے کسی نے انہیں رشتہ نہ دیا اور شادی نہ ہوسکی۔چهارم انجیل ان کی ۳۳ سالہ زندگی کے ناقص حالات بیان کرتی ہے مگر ہمارے نزدیک ان کی ۱۲۰ سال عمر ہوئی ہے اس عرصہ میں انہوں نے شادی کی باقی عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔اجم: حضرت مسیح ایک فقیہ سے جو آپ کے ساتھ رہنا چاہتا تھا فرماتے ہیں۔لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے، مگر ابن آدم کیلئے سردھرنے کی بھی جگہ نہیں۔(متی ۲۰۰۸) غور کا مقام ہے کہ ان حالات میں وہ کیسے شادی کر سکتے تھے۔مسیح ثانی ان تمام حالات سے پاک تھا اس لئے اپنے متبوع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق شادی کی اور صاحب اولاد ہوا۔پادری مرزا صاحب کی محمدی بیگم اور ثناء اللہ والی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی انہیں کیونکر راست باز مانا جا سکتا ہے؟ احمدی محمدی بیگم کی پیشگوئی اپنی شرائط کے مطابق پوری ہوئی جیسا کہ یوجنانی کی پیشنگوئی کا ذکر بائیل میں ہے۔مرزا احمد بیگ کی مطابق پیشگوئی موت سے اس کے داماد سلطان محمد پر خوف طاری ہو گیا اور وہ شوخیوں سے باز آ گیا اور اس نے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ شرط سے فائدہ اٹھایا۔ثناء اللہ کے متعلق تو کوئی پیشگوئی موت کی نہ تھی۔صرف دعا مباہلہ شائع کی گئی جسے اس نے منظور نہ کیا۔لیکن بالفرض اگر ایک یا دو پیشگوئیاں حضرت مرزا صاحب کی ، بقول آپ کے پوری نہیں ہو ئیں تو پھر بھی آپ کو انکار کی گنجائش نہیں۔انجیل کی رو سے حضرت مسیح کی کونسی پیشگوئی پوری ہوئی ؟ انہوں نے کہا تھا کہ لوگ زندہ ہوں گے میں آجاؤں گا مگر آج تک نہ آئے۔انہوں نے فرمایا تھا کہ بارہ حواری بارو تختوں پر عدالت کریں گے۔