حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 124 of 923

حیاتِ خالد — Page 124

حیات خالد 130 مناظرات کے میدان میں روحانی تشبیہ میں بعینہ جاری نہیں ہوتا بلکہ محض تقدم زمانی کی وجہ سے بھی مشبہ قرار دیا جاتا ہے۔اب دیکھئے عیسائی لوگ حضرت یوحنا کو مثیل ایلیا مانتے ہیں مگر کیا وہ ایلیا سے کم درجہ تھے؟ ہر گز نہیں۔انجیل میں لکھا ہے۔میں تم سے کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں ان میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں“۔(لوقا ۷ : ۲۸) پس جب یوحنا با وجود یکہ وہ مثیل ایلیا تھا۔ایلیا سے ہرشان میں بڑا تھا۔تو پھر مثیل مسیح میچ سے افضل کیوں نہیں؟ پادری مسیح نے کہا تھا کہ بہت سے جھوٹے مسیح اٹھ کھڑے ہوں گے۔مرزا صاحب بھی ان میں سے ایک ہیں۔احمدی: بچے اور جھوٹوں میں انجیل نے کیا ما بہ الامتیاز قائم کیا ہے؟ اگر کوئی علامت صادق مسیح کی نہیں بتائی گئی تو انجیل ناقص ہوئی اور اگر بتائی ہے تو اس سے بآسانی فیصلہ ہو سکتا ہے جھوٹے مسیح تو حضرت مرزا صاحب سے بہت پیشتر اور بہت تعداد میں ہورہے ہیں۔انجیل میں لکھا ہے۔اے لڑ کو امید اخیر وقت ہے اور جیسا تم نے سنا ہے کہ مخالف مسیح آنے والا ہے اس کے موافق اب بھی بہت سے مخالف مسیح پیدا ہو گئے ہیں۔اس لئے ہم جانتے ہیں کہ یا اخیر وقت ہے۔(۱- یو تا ۱۸:۲) 66 پس حضرت مرزا صاحب کو ان میں شامل کرنے کا کوئی موقعہ اور کوئی دلیل نہیں ہے۔پادری یہودی مسیح کے منتظر ہیں، عیسائی منتظر ہیں اور مسلمان بھی انتظار کرتے ہیں۔اب چاہیئے تھا کہ مسیح فلسطین میں آتا یا لندن میں مبعوث ہوتا یا مکہ معظمہ میں نزول فرما تا پنجاب میں آنا خود دلیل کذب ہے۔احمدی: انجیل نے مسیح موعود کی جائے بعثت فلسطین ، لندن یا مکہ قرار نہیں دی بلکہ لکھا ہے۔جیسے بجلی پورب سے کود کر پچھتم تک دکھائی دیتی ہے۔ویسے ہی ابن آدم کا آنا ہو گا۔(متی ۲۴: ۲۷ ) اس آیت میں حضرت مسیح نے خود فرما دیا کہ میری آمد ثانی پورب ( مشرق ) میں ہوگی اور پنجاب مسیح کے جائے قیام سے عین مشرق میں ہے۔بجلی تو شمال، جنوب، مغرب ہر سمت سے کو ندا کرتی ہے مگر مسیح کا پورب سے کوند کر فرمانا یقیناً یہی معنی رکھتا ہے کہ مسیح موعود کی آمد مشرق میں ہوگی۔نیز مذکورہ بالا مقامات میں عام طور پر ایک ایک مذہب کے لوگ ہی پائے جاتے ہیں مگر مسیح کو تمام مذاہب میں