حیاتِ خالد — Page 104
حیات خالد 110 مناظرات کے میدان میں سے ایک پیالی چائے ٹانگہ میں بیٹھے بیٹھے پی لی کیونکہ مناظرہ کا وقت ہو رہا تھا۔جب ہم مندر کے بیرونی دروازہ پر تھے اور میں نے اپنے دبلے جسم کو شانوں پر کمبل ڈال کر گرم کر رکھا تھا کیونکہ موسم سردی کا تھا تو ایک مولوی صاحب نے جماعت کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر معراج الدین صاحب مرحوم سے جو مجھ سے ذرا آگے جا رہے تھے پوچھا کہ کس کو مناظرہ کیلئے لائے ہو انہوں نے میرا نام بتایا اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ تم نے بڑی غلطی کی ہے تم نہیں جانتے کہ گزشتہ ہفتہ سے یہ ظالم پنڈت ہمارے مولویوں کا کیا حال کر رہا ہے تم اگر خلیفہ صاحب کو نہیں لا سکتے تھے تو کم از کم مولوی سرور شاہ صاحب یا حافظ روشن علی صاحب یا میر قاسم علی صاحب کو تو لاتے یہ تم نے کیا کیا ہے؟" جو نہی یہ الفاظ میرے کان میں پڑے میری روح پھر آستانہ الوہیت پر گداز ہوگئی اور میں نے کہا کہ اے اللہ ! اب تو تو ہی نصرت کرے گا۔آج کی نصرت کو لوگ صرف تیری قدرت پر محمول کریں گے میں تو سراسر نا چیز ہوں تو قدرت نمائی فرما۔آر یہ مندر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اوپر کی منزل پر عورتیں بھی تھیں۔آریوں نے اپنا سٹیج جنوب کی طرف اونچا بچھایا ہوا تھا اور ہمارے لئے سامنے ایک میز اور چند کرسیاں رکھ دی تھیں۔ہم جا کر ان کرسیوں پر بیٹھ گئے ہمارے ساتھیوں میں چوہدری غلام محمد صاحب سیکرٹری تبلیغ ، ڈاکٹر معراج الدین صاحب کے علاوہ ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب آف موگا مرحوم بھی کرسیوں پر تھے۔پنڈت دھرم بھکشو صاحب نے مجھے فوراً پہچان لیا۔اس سے قبل دینا نگر میں ان سے مناظرہ ہو چکا تھا فرمانے لگے کہ مولوی صاحب آپ کے ہم سے مناظرے ہوتے ہی رہتے ہیں مناظرہ شروع کرنے سے پہلے دو باتیں طے ہو جانی چاہئیں۔میں نے جھٹ کھڑے ہو کر کہا فرمائیے کیا باتیں ہیں۔میرے اس طرح کہنے سے مسلمان سامعین کے چہروں پر تسلی کے آثار نظر آتے تھے۔پنڈت صاحب نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے جو مضمون اپنے منتری صاحب کو کہا تھا اس میں ان سے غلطی ہوگئی ہے مضمون مناظرہ مرزا صاحب کی صداقت نہیں ہے بلکہ مرزا صاحب کی پیشگوئی دربارہ پنڈت لیکھرام ہے۔میں نے فورا کہا کہ ہمیں منظور ہے۔لوگ حیران تھے کہ عین میدان مناظرہ میں عنوان بدلا جا رہا ہے اور احمدی مناظر فوراً منظور کر لیتا ہے۔لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ ہمیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کا تصرف نظر آتا تھا۔پنڈت صاحب نے دوسری بات یہ کہی کہ پہلی اور آخری تقریر مدعی کی ہوگی اور مدعی آریہ سماج ہوگی۔میں نے کہا کہ یہ تو منظور ہے کہ پہلی اور آخری تقریر مدعی کی ہوگی مگر یہ درست نہیں کہ اس مضمون