حیات بشیر

by Other Authors

Page 77 of 568

حیات بشیر — Page 77

77 کے فراض سرانجام دیے اور مارچ ۲۲ ء سے مکرم قاضی اکمل صاحب اسکے ایڈیٹر مقرر ہو گئے۔۱۹۲۲ ء کے واقعات ۲۲ء میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے پھر افسران نظارت میں کچھ تبدیلی کی حضرت چوہدری فتح محمد صاحب کو ناظر تعلیم و تربیت اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو قائمقام ناظر اعلی تجویز فرمایا۔۱۳۶ تحفه شهزاده ویلیز ۲۷ فروری ۲۲ ء کو پرنس آف ویلز کی خدمت میں جبکہ وہ لاہور آئے تھے جماعت احمدیہ کی طرف سے ایڈریس پیش کیا گیا اور پھر ایک مرصع رو پہلی کشتی میں ممبران وفد نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی کتاب تحفہ شہزادہ ویلز انہیں پیش کی جس میں انہیں اسلام کی تبلیغ کی گئی تھی۔اس موقعہ پر جماعت کے جن معززین کو اس وفد میں شمولیت کے لئے منتخب کیا گیا ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے۔۱۳۷ ناظر اوّل کا عہدہ مارچ ۲۲ ء میں اعلان کیا گیا کہ حضرت خلیفہ المسیح نے نظارت کے صیغوں کی مزید نگرانی بالخصوص محکمہ تجارت کی نگرانی کے لئے ناظر اعلیٰ کے علاوہ ایک نیا عہدہ ناظر اوّل کا تجویز فرمایا ہے اور اس پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو مقرر فرمایا ہے۔۱۳۸ مئی ۲۲ ء میں آپ نے مدرسہ احمدیہ کے طلبا کے لئے ایک وظیفہ خود اپنی گرہ سے فرمایا۔۱۳۹ و تبلیغ ہدایت کی اشاعت جاری ۱۹۲۲ء کے سالانہ جلسہ پر جو نئی کتب شائع ہوئیں ان میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی 66 کتاب ” تبلیغ ہدایت بھی تھی جو دو سو آٹھ صفحات پر ہوئے لکھا کہ تھی۔الفضل نے اس پر ریویو کرتے ”جناب کی ذات گرامی سے ہمیں بڑی بڑی توقعات ہیں اور ہماری توقعات کو اس تازہ تصنیف نے نہ صرف بہت زیادہ بڑھا دیا ہے بلکہ درجہ یقین تک پہنچا دیا ہے۔اس لئے اپنے قلم مبارک کو اب تھمنے نہ دیجئے اور نئے نئے رشحات سے بہرہ اندوز فرماتے رہیے۔۱۳۰