حیات بشیر

by Other Authors

Page 554 of 568

حیات بشیر — Page 554

554 اپنی بیعت کا ذکر فرمایا اس کے بعد میاں محمد یوسف صاحب اور میاں محمد یعقوب صاحب نے بھی بیعت کر لی اور اس طرح اس خاندان میں نور احمدیت کا ظہور ہوا۔اور احمدیت اس خاندان کے ممتاز فرد حضرت محمد میاں یوسف صاحب کے ذریعہ سرحد کے اس ضلع میں پھیلنی شروع ہوئی۔آپ سالہا سال تک جماعت احمد یہ مردان کے امیر رہے۔آپ کے صاحبزادے میاں غلام حسین صاحب مرحوم ریٹائرڈ ایس۔ڈی۔او حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہمجولی تھے اور ڈھاب میں کشتی کے واقعہ سے بھی متعلق تھے۔ضمناً یہی واقع تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۲۳۴ حاشیہ میں بھی درج ہوا ہے۔لیکن اس میں قابل تصحیح بات بات یہ ہے کہ مکرم میاں محمد یوسف صاحب کے ذریعہ سے دونوں بھائی داخل احمدیت ہوئے۔حالانکہ مکرم میاں محمد احسن صاحب اپنے علاج کے دوران میں قادیان میں ہی مشرف بہ احمدیت ہو چکے تھے اور اس کا تذکرہ انہوں نے واپس وطن تشریف لانے کے بعد اپنے بڑے بھائی مکرم میاں محمد یوسف صاحب سے فرمایا تھا۔اور وہاں کے ایمان افروز حالات بھی سنائے جن کی وجہ سے میاں محمد یوسف صاحب کو بھی توجہ پیدا ہوئی اور وہ قادیان جا کر مشرف بہ احمدیت ہوئے۔بھائیوں کی ترتیب کے سلسلہ میں بھی عرض ہے کہ سب سے بڑے میاں محمد یوسف صاحب تھے اور ان سے چھوٹے میاں محمد یعقوب صاحب اور سب سے چھوٹے میاں محمد احسن صاحب تھے۔میاں محمد احسن صاحب موصی ہونے کی وجہ سے بہشتی مقبری ربوہ میں قطعہ صحابہ میں مدفون ہیں۔: ۲ خاکسار ( قاضی) محمد اسحاق بسمل داماد مکرم میاں محمد احسن صاحب مرحوم میاں محمد افضل پسر میاں محمد احسن صاحب مورخه ۶۲-۱۲-۲۶