حیات بشیر

by Other Authors

Page 495 of 568

حیات بشیر — Page 495

495 عندلیب گلشن احمد محترم جناب ثاقب صاحب زیروی جزو دل اس کشتہ ذوق وفا کی یاد ہے آئینہ یادوں کا جس کے عکس سے آباد ہے روح تھی جس کی غم انسانیت سے بیقرار گفتگو تھی جس کی گلہائے مروت کی بہار و جس رونق پیشانی آدم ہے جس کی داستان سے اپنا راز کہتے تھے زمین و آسماں صدق و تسلیم و رضا تھا جس کا درس اولیں آئینہ تھی رُوئے ہستی کیلئے جس کی جبیں جس کا دل انمول گنجینہ تھا جذب و درد کا ہمنوا ہر بے نوا کا غمگسار ہر فرد کا جو پیام آرزو تھا ملک ملت کیلئے جس کو بھیجا تھا خدا نے دیں کی نصرت کیلئے جس کی خودداری یہ قرباں دولت ارض و سما اب بھی پیغام نشاط رُوح ہے جس کی نوا جس کی آنکھوں سے ٹپکتی تھی مئے جام طہور گفتگو جس کی سراسر صدق کا راز سرور اک دل بیدار چشم خود نگر رکھتا تھا جو ذرے ذرے پر محبت کی نظر رکھتا تھا جو عندلیب گلشن احمد وہ قمر الانبياء مهدی موعود ۴ کی قلبی دعاؤں کا صلا شوکت تحریر میں جس کی جلال رُوح تھا دل کی قاشیں صفحہ کاغذ یہ دیتا تھا بچھا تھی مرقع اک عجب اوصاف کی وہ زندگی اس کی شمع قلب میں کچھ اور ہی تھی روشنی دل تڑپ جاتا تھا جس سے وہ نوا خاموش ہے ملت مظلوم کا ماتم سرا خاموش ہے کیا خبر تھی اپنے متوالوں کو یوں تڑپائے گی رفتہ رفتہ اس کی یاد اک ہوک سی بن جائیگی اب دکھائی دیں گی ارباب بصیرت کو کہاں یاس کی تاریکیوں میں وہ تنبسم ریزیاں درد کے ماروں کو پیغام بہاراں کون دے تشنگان دین کو اب جام عرفاں کون دے دہر کے روندے ہوؤں کا اب کہاں وہ غمگسار جسکی دلداری سے مٹ جاتا تھا دل کا خلفشار وہ جفاؤں پر دعائیں دینے والا اب کہاں دین احمد کی بلائیں لینے والا اب کہاں اس وفاکش دور میں ڈھونڈیں مگر پائیں کدھر رُوح کی گہرائیوں میں جھانکنے والی نظر غم کے ہاتھوں تنگ آکر ربوہ جب جاتا ہوں میں و دل میں اک نرالا درد لے آتا ہوں میں