حیات بشیر — Page 494
494 یا درفتگان از حضرت قاضی محمد اکمل صاحب مدظلہ العالیٰ تیرہ مارچ جمعے کا دن چودہ سن عیسوی یاد ہے ابتک اگر چہ گذری ہے آدھی صدی پھر وہی مارچ کی تیرہ، جمعہ ہے چونسٹھ ہے سن انقلابات زماں پر غور کر اے احمدی حضرت مرزا شریف احمد تھے طبعاً ”بادشاہ با وجود ضعف اعصابی بنفس راضیه صاحب رائے رزینہ، قاضی احقاق حق وہ معمر تو ہوئے پر ”دولت مستعجلہ“ حضرت مرزا بشیر احمد کہ جن میں تھی جھلک مصلح موعود کی ردا باخبار فلک انبیاء کے تھے قمر، احمد کے رخشندہ گہر چاندنی پھیلائی دین کی سیرت وصورت ملک خوبیاں انکی بیاں ہوں گنگ ہے اپنی زباں کارنامے ان کے ہیں مشہور و مشہور جہاں یاد کر کر کے انہیں رویا کریں گے روز و شب آه پیاری پیاری ایسی ہستیاں اکمل کہاں قادیاں سے ربوہ آئے تین کو کردیگا چار تا کہ سب مہجور پائیں مطمئن ہو کر قرار ہیں سوئے فلک اپنی نگاہیں بار بار یا الہی تیرے فضلوں کے ہیں ہم امید وار اٹھتی ہے دعا اے ذوالعطاء فرقان کر ہم کو عطا جاری ہے اپنی زبانوں پر کہ نصر اللہ متنی حل ہوں عقدے سبھی بچھڑے ہوؤں کو پھر ملا اس کے ساماں غیب سے تو ہی بنا تو ہی بتا (الفرقان قمر الانبیاء نمبر صفحه ۶۴)