حیات بشیر — Page 485
485 صاحب کا وجود اس قدر فیض رساں تھا کہ شاید ہی کوئی احمدی ہو گا جس نے آپ کی ذات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا ہو۔میری مراد فائدے سے کوئی دنیوی فائدہ نہیں بلکہ روحانی اور تربیتی فائدہ ہے۔غالباً کوئی ملک بھی ایسا نہیں ہوگا جہاں جماعت قائم ہو اور اس کے مبلغین اور لوکل باشندوں کے ساتھ آپ کی خط وکتابت نہ رہی ہو اور سالانہ جلسوں کے لئے انہوں نے آپ سے کوئی پیغام حاصل نہ کیا ہو۔جماعتوں کو بھی آپ سے اس قدر محبت تھی کہ غالباً ہر ملک میں آپ کی تقاریر کے ریکارڈ محفوظ ہوں گے۔آپ نے جو اپنے پیچھے قیمتی لٹریچر چھوڑا ہے وہ رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی کا کام دیتا رہے گا۔آپ کی غرباء کے ساتھ ہمدردی، بے سہاروں کی مدد، قیموں اور بیواؤں کی سرپرستی ، معاملات کی صفائی، مظلوموں کی تائید میں کمر بستگی، ظالموں کو وعظ ونصیحت سے مظلوموں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین، سادہ مزاجی ، خوش خلقی اور شیریں کلامی کوئی ایسی خوبیاں نہ تھیں جو جلد بھلائی جا سکیں۔آپ کی توحید پرستی، خدا تعالیٰ پر توکل اور اتقاء، جرات مندی اور سخاوت، ذہانت اور ذکاوت ، انکسار اور تواضع کے واقعات بھی ہمیشہ آنے والوں کے ایمانوں کو جلا دیتے رہیں گے۔آپ وجیہہ تھے، باوقار تھے، صادق القول تھے، صادق الوعد تھے، غیور تھے، حیا دار تھے، قصورواروں کے قصور معاف کرنیوالے تھے اور عیب داروں کے عیب پوش تھے۔آپ کے کلام میں اس قدر جذب اور شوکت پائی جاتی تھی کہ سامعین ہمہ تن گوش ہو کر سننے پر مجبور تھے۔آپ حق اور انصاف کی تائید کرنے میں عزیز سے عزیز رشتہ دار کی بھی پروا نہیں کرتے تھے۔آپ کی وعظ و نصیحت کا رنگ دنیا سے بالکل نرالا تھا۔حق بات کہہ بھی جاتے تھے لیکن سننے والا خفت بھی محسوس نہیں کرتا تھا بلکہ یوں محسوس کرتا تھا جیسے کسی نہایت ہی شفیق اور غمخوار انسان نے درد بھری نصیحت کر کے اس کی اصلاح کے لئے ایک بہترین درس ہدایت دیا ہے۔آپ بالغ النظر، صائب الرائے اور نہایت ہی شفیق و مقدس وجود تھے۔آپ کی وفات سے جہاں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک وفا شعار مشیر خاص سے محروم ہو گئے ہیں۔وہاں جماعت ایک محسن و مربی ہمدرد و وشفیق اور غمگسار کو کھو بیٹھی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ محض اپنے فضل وکرم سے ہی اس عظیم خلا کو پورا کرنے کے سامان پیدا کرے۔آپ کے وجود کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ اس امر سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ آپ کی وفات پر جو شخص بھی جنازہ پر پہنچ سکتا تھا وہ پہنچا۔تعزیت کی قرار دادوں کا اگر شمار کیا جائے تو وہ لا محالہ ہزاروں تک جا پہنچیں گی۔مرکزی اداروں ، صدر انجمن احمدیہ ، تحریک جدید اور وقف جدید کے علاوہ انصار اللہ مرکزیہ ، خدام الاحمدیہ مرکزیه، لجنہ اماء الله