حیات بشیر

by Other Authors

Page 455 of 568

حیات بشیر — Page 455

455 میں آپ کو گھبراہٹ تھی۔میں نے عرض کیا میں آپ کے ساتھ گھوڑا گلی جاؤں گا۔اور کچھ وقت ساتھ رہوں گا۔اس سے آپ کو اطمینان ہو گیا۔ہم ۷ار جولائی کو کار میں لاہور سے روانہ ہوئے میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ کار میں تھا۔راستہ میں ڈاک بنگلہ میں دو پہر کے وقت آرام فرمایا جہلم کے دوست ملاقات کے لئے آئے۔ان میں بیٹھ کر گفتگو فرماتے رہے۔رات راولپنڈی میں ٹھہر کر صبح گھوڑا گلی کے لئے روانہ ہوئے۔راولپنڈی کے احباب کی خواہش پر مری روڈ پر احمد یہ مسجد کے سامنے کار کھڑی کر کے دعا فرمائی ہم پہلے پہر ہی گھوڑا گلی پہنچ گئے۔آپ کی رہائش گاہ ایک پر فضا جگہ تھی آپ نے اسے پسند فرمایا۔میں وہاں آپ کے ساتھ ۶،۵ دن ٹہرا۔اس عرصہ میں آپ کی طبیعت نسبتاً بہتر تھی گو کسی حد تک بے خوابی اور کمزوری تھی اور کبھی کبھی گھبراہٹ ہو جاتی تھی مگر عموماً طبیعت پر سکون رہتی۔ایک دن راولپنڈی سے بہت سے دوست ملاقات کے لئے آئے۔ان سے مختلف امور پر گفتگو فرماتے رہے۔ساملی سینی ٹوریم کے ڈاکٹر اور سول سرجن مری آپ کو دیکھنے کے لئے آئے اور انتظام کیا گیا کہ آپ کو باقاعدگی سے دیکھتے رہیں گے۔میں چند دن رہ کر واپس آگیا۔آنے کے ہفتہ دس دن بعد رپورٹ ملنی شروع ہو گئی کہ حضرت میاں صاحب کو پھر بے چینی کی تکلیف زیادہ شروع ہوگئی ہے۔اور رات کے وقت خصوصاً گھبراہٹ زیادہ ہو جاتی ہے۔پروگرام تو یہ تھا کہ آپ کم از کم ۸،۷ ہفتے وہاں قیام فرما دیں مگر اس گھبراہٹ کی وجہ سے ۱۹،۱۸ دن رہنے کے بعد ہی آپ لاہور تشریف لے آئے۔اور غالبا اگست کو واپس یہاں پہنچے محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ اس سفر میں صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب بھی ساتھ تھے۔اور مقررہ پروگرام سے پہلے واپس آنے کی وجہ انہوں نے یہ لکھی ہے کہ۔روالپنڈی کے بعض احباب نے مجھے بتایا کہ ہم نے مسجد کے افتتاح کے لئے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں متعدد مرتبہ درخواست کی کہ آپ تشریف لا کر افتتاح کریں مگر آپ نے ہر مرتبہ انکار کیا۔میں نے انہیں کہا کہ دراصل آپ لوگوں کو حضرت میاں صاحب کی طبیعت کا پتہ نہیں تھا۔وہ تو حکم کے بندے تھے۔اگر آپ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دراخوست کرتے کہ حضرت میاں صاحب کو افتتاح کیلئے ارشاد فرما دیں تو حضور کے فرمان پر حضرت میاں صاحب کے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا میری یہ بات سنکر انہوں نے افسوس کیا کہ انہیں یہ تجویز نہیں سوجھی۔(عبدالقادر ۶۴-۶-۱۱)