حیات بشیر — Page 454
454 گئیں۔کچھ علاج کے نتیجہ میں کچھ آپریشن کی بلا ٹل جانے کی وجہ سے عوارض میں قدرے افاقہ ہوا۔“ ہے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ آپ کو اپنی وفات سے متعلق کچھ عرصہ سے منذر خواہیں بھی آرہی تھیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب ان خوابوں کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ۔چند ماہ سے ابا جان کو متعدد منذر خواہیں اپنی وفات کے متعلق آرہی تھیں جن ޏ ان کی طبیعت میں یہ خیال راسخ ہو گیا تھا کہ ان کی وفات کا وقت قریب ہے۔اس کا پہلا اشارہ مجھے عید کے موقعہ پر شروع مئی میں کیا۔جبکہ میں واپس راولپنڈی کے لئے رخصت ہو رہا تھا۔فرمانے لگے کہ وو مجھے کچھ عرصہ سے بعض منذر خواہیں آرہی ہیں۔تم بھی دعا کرنا۔اور حسب معمول رخصت کرتے وقت فرمایا۔”اللہ حافظ وناصر ہو یہ خوابوں کا سلسلہ لاہور میں بھی جاری رہا اور میرے علاوہ دوسرے ملنے والوں سے بھی ان کا ذکر کیا۔گو تفصیل نہیں بتلاتے تھے۔نہ ہم میں اس کے دریافت کی ہمت پڑتی تھی۔میں نے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا۔ان کی رائے یہ تھی کہ ابا جان کی بیماری کی تشویشناک صورت دل اور بلڈ پریشر کی طرف سے ہوسکتی ہے اور یہ دونوں بیماریاں خدا کے فضل سے کنٹرول میں تھیں۔چنانچہ ایک مرتبہ میں نے عرض بھی کیا کہ ڈاکٹر تسلی دلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اصل بیماریاں کنٹرول میں ہیں اور باقی شدید بے چینی اور بے خوابی کی تکالیف عارضی ہیں جو انشاء اللہ جلد ٹھیک ہو جائیں گی۔میرے یہ کہنے پر فرمایا۔ڈاکٹروں کی رائے پر نہ جانا۔“ ھے اگلے حصہ کے حالات محترم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب کے مضمون میں تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔لہذا وہاں سے درج کئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ان دنوں گرمی جوبن پر تھی۔مشورہ ہوا کہ آپ کچھ ہفتے کسی ٹھنڈی جگہ تشریف لے جا کر آرام فرما دیں اور علاج جاری رکھیں۔اس کے لئے گھوڑا گلی کا مقام تجویز ہوا جو کہ مری کے نزدیک اور اس سے کم بلندی پر واقع ہے۔پہلے تو حضرت میاں صاحب وہاں جانے پر رضامند نہیں تھے مگر ہمارے زور دینے پر آمادہ ہو گئے چونکہ اکیلا جانے