حیات بشیر — Page 446
446 یعنی اے مسلمانو! تم میں یہ نبوت کا دور اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ خدا چاہے گا کہ وہ قائم رہے اور پھر یہ دور ختم ہو جائے گا۔اسکے بعد خلافت کا دور آئے گا جو نبوت کے طریق پر قائم ہوگی۔(اور گویا اس کا تمہ ہوگی۔) اور پھر کچھ وقت کے بعد یہ خلافت بھی اٹھ جائے گی اس کے بعد کاٹنے والی (یعنی لوگوں پر ظلم کرنے والی) بادشاہت کا دور آئے گا۔جو خواہ ظلم کے طریق سے اجتناب کرے مگر وہ جمہوریت کے اصول کے خلاف ہوگی اور اس رنگ کی حکومت بھی اٹھ جائے گی۔اس کے بعد پھر دوبارہ خلافت کا دور آئے گا جو ابتدائی دور کی طرح نبوت کے طریق پر قائم ہوگی۔اس کے بعد راوی کہتا ہے آنحضرت علیہ خاموش ہو گئے۔۱۲ : عن ابي هريرة ان رسول الله لعل الله قال تنكح المراة لاربع لما لها و لحسبها و لجمالها والدينها فاظفر بذات الدین تربت یداک۔کا ترجمہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ بیوی کے انتخاب میں عموما چار باتیں مد نظر رکھی جاتی ہیں۔بعض لوگ تو کسی عورت کے مال ودولت کی وجہ سے اس سے شادی کرنے کی خواہش کرتے ہیں اور بعض لوگ عورت کے خاندان اور حسب ونسب کی وجہ سے شادی کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔اور بعض لوگ عورت کے حسن و جمال پر اپنے انتخاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔اور بعض لوگ عورت کے دین و اخلاق کی وجہ سے بیوی کا انتخاب کرتے ہیں۔سو اے مرد مسلم تو دیندار اور با اخلاق رفیقہ حیات چن کر اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی کوشش کر ورنہ تیرے ہاتھ ہمیشہ خاک آلود رہیں گے۔۱۸ صلى الله ۴ : عن ابى بكرة قال قال رسول الله عله الا انبئكم باكبر الكبائر ثلاثا قالوابلى يا رسول الله قال الاشراك بالله وعقوق الوالدین و جلس وكان متكئاً فقال الا وقول الزور فما زال يكرّرها حتى قلنا ليته سكت۔19 ترجمہ: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں پر مطلع نہ کروں؟ اور (صحابہ کو متوجہ کرنے کے لئے) آپ نے یہ الفاظ تین دفعہ دہرائے۔صحابہ نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ آپ ضرور ہمیں مطلع فرما دیں۔آپ نے فرمایا تو پھر سنو کہ سب سے بڑا گناہ خدا