حیات بشیر — Page 442
442 ۳۶۔فسادات کا بروقت انسداد نہ کرنے کے متعلق حکومت کی ذمہ داری ( اور صوبہ کی حکومت کی خاص ذمہ داری) ۳۷۔فسادات ایک منظم اور سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت ہوئے۔۳۸۔فسادات کا بھیانک نقشہ اور اگر خدا نخواستہ یہ فسادات کامیاب ہوتے تو ان کے نتائج ملک کے لئے تباہ کن ہوتے ۳۹- اگر حکومت وقت پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتی تو سول انتظام کے ماتحت بھی فسادات کا انسداد کر سکتی تھی مگر حالات پیش آمدہ میں مارشل لاء کا نفاذ ناگزیر ہوگیا۔۴۰۔اس قسم کے فسادات کا بیرونی دنیا پر انتہائی طور پر ناگوار اثر محترم مولانا محمد یعقوب صاحب کے خط کا جواب ذیل میں خط محترم مولانا محمد یعقوب صاحب فاضل انچارج صیغہ زود نویسی ربوہ کے اس سوال کے جواب میں ہے کہ یہ جو مشہور ہے کہ انبیاء ایک لاکھ بیس ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار گذرے ہیں۔اس کی سند کیا ہے؟ اسی طرح نبی اور رسول میں فرق کے متعلق بھی ایک سوال ہے۔اس کا جو جواب آپنے دیا وہ درج ذیل ہے: رتن باغ لاہور ۱۹-۳-۵۰ مکرمی محترمی مولوی محمد یعقوب صاحب فاضل السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط موصول ہوا۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔یعنی جہانتک مجھے یاد ہے قال ابو ذر قلت يا رسول الله كم وفا۔عدة الانبياء قال مائة الف و عشرون الفا الرسل من ذلك ثلاث مائة خمسة عشر جما غفيراً (مسند احمد بحوالہ مشکوة كتاب بدء الخلق و ذكر الانبياء) غالباً اسی قسم کے الفاظ ہیں۔اس کے علاوہ بھی ایک حوالہ تھا جو اس وقت یاد نہیں۔اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ حوالہ کہ نبی اور رسول ایک ہی ہے صرف جہت کا فرق ہے۔غالباً ایک غلطی کا ازالہ میں ہے۔مگر وہ اس وقت میرے پاس موجود نہیں اور نہ الفاظ یاد ہیں۔اس قسم کا خیال کہ نبی اور رسول ایک ہی ہیں۔صرف جہت کا فرق ہے۔حضرت