حیات بشیر — Page 411
411 پھر چٹھی لینے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔چنانچہ مکرم عبدالشکور صاحب ریڈیو الیکٹرک سنٹر ملتان چھاؤنی لکھتے ہیں کہ۔”جب صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب ملتان میں محکمہ آبادی کے افسر تھے تحصیل بے سو حسین کبیر والہ کے دو زمیندار غیر احمدی قادیان میں حضرت ابا جان محترم چوہدری غلام صاحب آف جھنگ کے پاس آئے اور خواہش کی کہ ان کے کسی مقدمہ میں بطور سفارش صاحبزادہ صاحب موصوف کے نام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سے چٹھی لے کر دیں۔حضرت ابا جان اسے پسند نہ فرماتے تھے۔انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن سود۔وہ مصر رہے۔آخرا نہوں نے مجھے فرمایا کہ تم انہیں درد صاحب کے پاس لے جاؤ۔وہ کوئی ترکیب نکال لیں گے۔میں نے دونوں کو ساتھ لیا اور حضرت درد صاحب کی خدمت میں دارالانوار پہنچا۔عصر کا وقت تھا۔درد صاحب نے مجھے علیحدگی میں فرمایا کہ حضرت میاں صاحب کو میں بھی اس کام کے لئے عرض کرنا مناسب خیال نہیں کرتا۔نہ ہی وہ چٹھی دیں گے۔مگر سائل چونکہ غیر احمدی معززین ہیں اور اتنی دور سے آئے ہیں۔ان کی بھی دشکنی نہ ہو تم انہیں خود لے کر حضرت میاں صاحب کی خدمت میں چلے جاؤ۔حضرت ممدوح اس وقت سیر کے لئے تشریف لایا کرتے ہیں۔بس آتے ہی ہوں گے۔راستے میں ہی عرض کر لینا گویا انجام کار قرعہ فال میرے ہی نام پڑا میں نے دونوں کو ساتھ لیا اور جانب شہر چل کھڑا ہوا۔ہم ڈاکٹر حاجی خاں صاحب کی کوٹھی کے پاس ہی پہنچے ہوں گے کہ حضرت میاں صاحب موڑ سے دو تین خدام کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے سفید شلوار قمیض۔سر پر پشاوری لنگی اور گلے میں وہی مانوس سرخ رومال قریب پہنچنے پر میں نے السلام علیکم عرض کیا۔اور ساتھ ہی دونوں زمینداروں سے تعارف کرایا۔حاضری کی غرض بیان کی۔ان دونوں نے یہ بات خاص طور سے زور دے کر عرض کی کہ ہم صرف اپنا حق مانگتے ہیں۔آپ بے شک یہ لکھ دیں کہ اگر ہمارا حق بنتا ہو تو ہمیں دیں ورنہ ہر گز نہیں“ حضرت نے قدرے توقف کے بعد ان سے مخاطب ہو کر فرمایا۔”ملک صاحب ! مجھے آپ کی خواہش پورا کرنے میں تو عذر نہیں۔میری عین خواہش ہے کہ آپ کا حق آپ کو ضرور ملے لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ مظفر احمد کو ایسی چٹھی لکھنے کے دو ہی معنی ہو سکتے