حیات بشیر

by Other Authors

Page 402 of 568

حیات بشیر — Page 402

402 یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ کچھ عرصہ سے ہماری جماعت کے بچوں اور بچیوں کے نتائج اچھے نکل رہے ہیں اور ان کا معیار دن بدن بلند ہوتا جا رہا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام والی بشارت حاصل کرنے کے لئے میں کہتا ہوں۔نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز “ طالبعلموں کے لئے آپ کی یہ رہنمائی صرف درسگاہوں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ زندگی کے عملی میدان میں بھی آپ کو ان کی ترقی اور کامیابی کا فکر رہتا تھا۔چنانچہ آپ نے ایک مرتبہ خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع پر افتتاحی خطاب میں فرمایا: حد و " آپ لوگوں میں سے کافی تعداد ایسے لوگوں کی ہو گی جو ابھی سکولوں اور کالجوں میں تعلیم انتہ پارہے ہیں انہیں اس غلط فہمی میں نہیں مبتلا ہونا چاہیے کہ تعلیم پانے کا زمانہ صرف درسگاہوں کی چار دیواری تک محدود ہے۔حق یہ ہے کہ درسگا ہیں تو صرف علم کے دروازے تک پہنچاتی ہیں۔اس کے آگے ایک بہت وسیع میدان ہے۔ایسا وسیع جس کی کوئی انتہا نہیں۔اس میدان میں انسان سکول اور کالج سے فارغ ہونے کے بعد خود اپنی کوششوں اور اپنی آنکھوں اور کانوں کو کھلا رکھنے کے ذریعے علم حاصل کرتا ہے۔پس درسگاہوں سے فارغ ہونے کے بعد تحصیل علم کا سلسلہ جاری رکھو اور ضرور جاری رکھو کیونکہ یہ وہ علم ہے جو درسگاہوں میں حاصل ہونے والے علم سے بہت زیادہ وزن رکھتا ہے۔میرے آقا ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت سے علم کے آسمان پر پہنچا دیا مگر پھر بھی آپ کی یہی پکار رہی۔رب زدنی عـلـمـاً ـ یعنی خدایا! مجھے اور علم عطا کر۔‘ا امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جہاں آپ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ خوب ނ پہلے دعا محنت اور توجہ سے کام کرو وہاں ایک نصیحت آپ کی یہ بھی ہوا کرتی تھی کہ امتحان ضرور کر لیا کرو۔عزیزم عطاء المجيب صاحب راشد ابن حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری لکھتے ہیں کہ گذشتہ سے پیوستہ سال جب خاکسار نے بی اے سال اول کا امتحان بفضلہ تعالی نمایاں پوزیشن کے ساتھ پاس کیا تو حضرت میاں صاحب کی خدمت میں ایک عریضہ کے ذریعہ اس امر کی اطلاع دی نیز شیرینی بھی پیش کی۔حضرت میاں صاحب شفقت