حیات بشیر — Page 40
40 میں اس شکریہ کے تصور تک کی گنجائش نہیں۔“ ہے شکل و شباہت اور بچپن السلام ہے۔اور آپ کی پیدائش جمعرات کی صبح کو طلوع آفتاب کے بعد ہوئی تھی کے اور جیسا کہ الہام میں بتایا گیا تھا۔آپ شکل و شباہت میں اپنے بھائی مرزا فضل احمد صاحب کے مشابہہ تھے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب فرمایا کرتے تھے کہ شکل و شباہت کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ کی اولاد کے دو ٹائپ ہیں۔ایک سلطانی اور دوسرا فضلی۔سلطانی ٹائپ سے لمبا کتابی چہرہ مراد رفضلی ٹائپ سے گول چہرہ۔آپ سلطانی ٹائپ میں حضرت خلیفہ ثانی، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، صاحبزادی امتہ النصیر صاحبہ اور سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو شامل فرماتے تھے۔اور فضلی جماعت میں صاحبزادی عصمت صاحبہ صاحبزادی شوکت صاحبه، صاحبزاده مرزا بشیر احمد صاحب اور نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو شامل فرمایا کرتے تھے۔9 اس موقعہ پر یہ ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی حرم اول جو ایک نہایت مخلص اور فدائی خاتون تھیں۔چونکہ اُن کے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی اور کئی بچے وفات پاچکے تھے۔اس لئے جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی ولادت ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرحومہ کو فرمایا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے نا اس وجہ سے آپ کے ساتھ مرحومہ کو خاص محبت تھی اور یہی وجہ تھی کہ جب ۱۹۰۵ء میں اُن کا انتقال ہوا تو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب جن کی عمر اس وقت ۱۳ سال تھی جنازہ کے ساتھ اور دفن کے وقت اس طرح موجود رہے کہ ان کا چہرہ اس اندرونی محبت کو ظاہر کرتا تھا۔11 حضرت ام المؤمنین کی آپ سے محبت حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کو خاص محبت اور پیار کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور بشیر کی بجائے بشری کہہ کہ کر پکارا کرتی تھیں۔غالباً یہی وجہ ہے کہ آپ نے ربوہ میں اپنے نو تعمیر مکان کا نام بھی ”البشری" تجویز فرمایا۔اسی طرح آپ پیار کے طور پر حضرت میاں بشیر احمد صاحب کو کبھی کبھی منجھلے میاں“ بھی کہا کرتی تھیں۔۱۳ حضرت مسیح موعود کا پیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تھی کہ آپ کبھی کبھی اپنے بچوں کو پیار سے