حیات بشیر

by Other Authors

Page 368 of 568

حیات بشیر — Page 368

368 اور توجہ فرمائیں۔اس کے سوا کو ئی غرض نہیں تھی۔جب نبیوں اور رسولوں کی خواہیں اور مکاشفات مصلحت الہی کے ماتحت مل جاتے ہیں۔تو پھر ہم لوگ تو بہر حال غلامان رسالت کے زمرہ میں ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا اور ہم سب کا حافظ و ناصر ہو۔اور اپنی بہترین تقدیروں سے نوازے۔میرے خط سے آپ نے کو ئی غلط مطلب سمجھا ہو۔تو معاف فرمائیں۔میں نے اعتراض نہیں کیا تھا۔بلکہ مزید دعا کیلئے توجہ دلائی تھی۔“ وسے ۵۱:” یہ عاجز آپ کے ساتھ قلبی محبت رکھتا ہے اور آپ کے لئے ہمیشہ دعا گو رہتا ہے میں ایک مضمون سیرت مسیح موعود کے متعلق لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسے رنگ میں مکمل کرنے کی توفیق دے جو اس کی رضا کے مطابق ہو اور اسے اپنی جناب سے اثر اور برکت عطا کرے۔اور جماعت کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی زیادہ سے زیادہ مفید بنائے۔آمین یا ارحم الراحمین۔نیز ایک مضمون ”خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق بھی لکھا ہے اس کے متعلق بھی دعا فرمائیں۔“ ہے ۵۲: حق یہ ہے کہ انسان کا عمل تو بظاہر ایک بہانہ ہی ہوتا ہے۔ورنہ سب دار ومدار اللہ کے فضل پر ہے۔اسی طرح ایک دفعہ غور کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو انعاموں کے حصول کے لئے جو دعا ئیں سکھائی ہیں۔ان میں عمل کا کوئی ذکر نہیں بلکہ صرف ایمان اور اخلاص اور محبت پر بنیاد رکھی ہے۔پس اگر میں بھی اپنی بہت سی کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بن جاؤں تو یہ محض اسی کا فضل ہے۔ورنہ میرا عمل تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔۔۔۔بہر حال آپ کی خدمت میں درخواست ہے کہ اپنی مخلصانہ اور محبانہ دعاؤں کو جاری رکھیں تا کہ ہماری آخرت ہماری اولی سے بہتر ہو۔“ اے ۵۳: اسی رمضان کی پچپیس تاریخ کو جب یہ عاجز تقریباً ڈیڑھ بجے شب سجدہ میں تھا تو مجھے ایک قلبی القاء کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ لیلۃ القدر ہے سو خدا کی طرف سے دعاؤں کی جو توفیق مل سکی۔اس کے مطابق دعائیں کی گئیں۔اسی شب کو میری لڑکی امتہ المجید سلمہا نے (جس کے معاملہ میں الجھن ہے اور میں آپ کو دعا کے لئے لکھتا رہا ہوں ) خواب دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ یہ لیلۃ القدر ہے “۔