حیات بشیر

by Other Authors

Page 365 of 568

حیات بشیر — Page 365

365 ہے۔قرآن نے فی الدنيا حسنةً فرمایا ہے نہ کہ حسـنـة الـدنـيـد میں یقین رکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی مراد لیتے تھے۔ہے۔خدا کے فضل سے اس رمضان میں آپ کے واسطے دعا کی زیادہ توفیق پائی قبول کرنا خدائے ودود کے ہاتھ میں ہے۔میں نے اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے بھی دعا کے واسطے عرض کیا تھا۔تاکہ مجھ عاجز کے ذریعہ بھی شجر مسیحی زندہ اور بار آور رہے۔وذالک ظني بالله و ارجوا منه خَيْراً۔ابھی ابھی آپ کے خط سے آپ کی بظاہر منذر خواب پڑھ کر بہت فکر لاحق ہوا۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت اور خدمت اور برکت کی لمبی زندگی عطا کرے اور حافظ و ناصر ہو۔جماعت کو ابھی آپ جیسے بزرگوں کے بابرکت سایہ کی بہت ضرورت ہے۔کیونکہ نئی پود نے ابھی بہت کچھ درس وفا سیکھنا ہے۔اس قسم کی خواب سے بسا اوقات زندگی کا کوئی انقلاب بھی مراد ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات ایسی خواب میں یہ پہلو مضمر ہوتا ہے۔مگر یہ خدا تعالیٰ کے علم میں ہے کہ حقیقت الامر کیا ہے۔میری بہر حال دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی اور آپ کے افاضات میں برکت عطا فرمائے اور جماعت کو آپ کے نیک اثر سے اتنی جلدی محروم نہ فرمائے۔آمین یا ارحم الراحمین ویسے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی شخص کا زندہ رہنا کس وقت تک بہتر ہے اور وفات کس وقت بہتر ہے اور پھر روحانی نظام کے علاوہ ایسے امور میں جسمانیات کا قانون بھی چلتا ہے۔جو اپنی جگہ علیحدہ قانون ہے لیکن بہر حال ہمارا کام اپنے علم کے مطابق دعا کرنا اور خدا سے رحمت کا طالب بنتا ہے۔میں جب نو عمر تھا تو جبری قدری بحث میں جبریہ نظریہ والوں پر تعجب کیا کرتا تھا کہ یہ نظریہ کس طرح قائم کر لیا گیا ہے جبکہ انسان بظاہر آزاد وخود مختار ہے۔لیکن عمر کی پختگی کے ساتھ یہ عقدہ بھی حل ہونا شروع ہوا کہ بہت سی باتوں میں خدائے علیم و قدیر کا جبر بھی چل رہا ہے۔یہ جبر ظلم کا جبر نہیں بلکہ رحمت اور اصلاح کا جبر ہے لیکن ہے بہر حال جبر ہی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی کیا خوب فرماتے ہیں کہ گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار آپ نے عرصہ ہوا۔خواب دیکھی تھی کہ آپ کی عمر ۴۷ سال کی ہوگی۔مگر خدائے - ۴۵