حیات بشیر — Page 364
364 رضی اللہ عنہ نے اپنے سوانح (مرقاۃ الیقین ) املا کرائے تھے۔اس کا مطالعہ بہت مفید ہو سکتا ہے ہے۔چند دن ہوئے صبح کے وقت میری زبان پر یہ عجیب و غریب الفاظ جاری ہوئے: محمدی اُٹھ تیری سر بلندی کا وقت قریب آگیا ہے“ اس میں محمدی سے جماعت احمد یہ مراد معلوم ہوتی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ کے الہام: السلام بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں برمنار بلند تر محکم افتاد میں محمدی لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔دوسرے الفاظ بھی حضور کی وحی سے ملتے ہیں۔سو کیا عجب که کسی درمیانی امتحان کے بعد اللہ تعالیٰ جماعت کی غیر معمولی ترقی کا زمانہ لے آئے۔مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت اور برکت کی زندگی عطا فرمائے۔آمین۔فقط ۳۳ ” آپ نے میرے دوسرے خط کے جواب میں لکھا ہے کہ جب ہمارے آقا علیہ خود فرماتے ہیں کہ اگر تمہاری جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹے تو خدا سے دعا مانگو تو ہم اپنی دنیا کی ضرورتیں کیوں خدا سے نہ مانگیں۔حضرت مولوی صاحب! یہ بجا اور درست ہے اور یہ عاجز اس تعلیم سے غافل نہیں لیکن ہر انسان کا ایک مقام ہوتا ہے میں نے اپنے مقام کے لحاظ سے عرض کیا تھا کہ آپ فتویٰ کی بجائے تقویٰ کے پیش نظر صرف دین کی طرف توجہ دیں اور دنیا کو خدا کے لئے چھوڑ دیں کہ وہ جس صورت میں پسند کرے اور جہاں تک پسند کرے دے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تو یہ لکھا ہے کہ میں تمہیں اسباب کی رعایت سے نہیں روکتا لیکن اگر کسی کو تو فیق ہو تو تو کل کا مقام افضل ہے۔بایں ہمہ یہ درست ہے کہ خدا کی طرف رجوع جس رنگ میں بھی ہو مبارک ہے۔بہر حال آپ کے شایان شان بات عرض کی تھی لیکن انــمــا الاعـمـال بالنیات۔اگر آپ پاک نیت سے نعماء دنیوی کی طرف توجہ فرما ئیں تو خوب ہے۔مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔خصوصاً اگر کوئی مشکل طبیعت میں انتشار پیدا کر رہی ہے تو اس کا ازالہ ضرور ہونا چاہیے۔باقی آپ جانتے ہیں کہ قرآنی دعا ربنا آتنا في الدنيا سنة میں دنیا کی نعمت مراد نہیں بلکہ ایسی روحانی نعمت مراد ہے جو دنیا میں مل سکتی۔- ۴۴